اورعصر کا وقت۔اور اتفاقًا یہ یہودیوں کی عید فسح کا بھی دن تھا۔ اس لئے فرصت بہت کم تھی اور آگے سبت کا دن آنے والا تھاجس کی ابتدا غروب آفتاب سے ہی سمجھی جاتی تھی کیونکہ یہودی لوگ مسلمانوں کی طرح پہلی رات کو اگلے دن کے ساتھ شامل کرلیتے تھے اور یہ ایک شرعی تاکید تھی کہ سبت میں کوئی لاش صلیب پر لٹکی نہ رہے۔ تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح کودوچوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا تا شام سے پہلے ہی لاشیں اُتاری جائیں۔ مگر اتفاق سے اُسی وقت ایک سخت آندھی آگئی جس سے سخت اندھیرا ہو گیا۔ یہودیوں کو یہ فکر پڑ گئی کہؔ اب اگر اندھیری میں ہی شام ہو گئی تو ہم اس جرم کے مرتکب ہوجائیں گے جس کا ابھی ذکرکیاگیا ہے۔سو انہوں نے اس فکر کی وجہ سے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اُتار لیا۔ اور یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ بالاتفاق مان لیا گیاہے ۔کہ وہ صلیب اس قسم کی نہیں تھی جیسا کہ آج کل کی پھانسی ہوتی ہے اورگلے میں رسّہ ڈالکر ایک گھنٹہ میں کام تمام کیاجاتاہے۔بلکہ اس قسم کا کوئی رسّہ گلے میں نہیں ڈالا جاتا تھا صرف بعض اعضاء میں کیلیں ٹھوکتے تھے اور پھر احتیاط کی غرض سے تین تین دن مصلوب بھوکے پیاسے صلیب پر چڑھائے رہتے تھے اور پھر بعد اس کے ہڈیاں توڑی جاتی تھیں اور پھر یقین کیاجاتا تھا کہ اب مصلوب مرگیا۔ مگر خدائے تعالیٰ کی قدرت سے مسیح کے ساتھ ایسا نہ ہوا۔ عید فسح کی کم فرصتی اور عصر کا تھوڑا ساوقت اور آگے سبت کا خو ف اور پھر آندھی کا آجانا ایسے اسباب یکدفعہ پیداہوگئے جس کی وجہ سے چند منٹ میں ہی مسیح کو صلیب پر سے اُتار لیا گیا اوردونوں چور بھی اُتار ے گئے۔ اور پھر ہڈیوں کے توڑنے کے وقت خدائے تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا یہ نمونہ دکھا یا کہ بعض سپاہی پلاطوس کے جن کو درپردہ خواب کا خطرناک انجام سمجھایا گیا تھا و ہؔ اس وقت موجود تھے جن کا مدعا یہی تھا کہ کسی طرح یہ بلا مسیح کے سر پر سے ٹل جائے ایسا نہ ہو کہ مسیح کے قتل ہونے کی وجہ سے وہ خواب سچی ہو جائے جو پلاطوس کی عورت نے دیکھی تھی۔ اور ایسا نہ ہو کہ پلاطوس کسی