داخل کیا جاتا ہے ؟ سو اُن کا نبی کے زمانہ میں خاموشی اختیار کرنا ہمیشہ کے لئے حجت ہوگئی اور اُن کے ساختہ پرداختہ کا اثر اُن کی آنے والی ذرّیتوں پر بھی پڑا۔ کیونکہ سلف خلف کے لئےؔ بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنیوالی ذرّیت کوماننی پڑتی ہیں۔
اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے جو اس بحث کو چھیڑا کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا بلکہ اپنی موت سے فوت ہوا۔ اس تمام بحث سے یہی غرض تھی کہ مسیح کے مصلوب ہونے سے دو مختلف فرقے یعنی یہود اور عیسائی دو مختلف نتیجے اپنی اپنی اغراض کی تائید میں نکالتے تھے۔ یہودی کہتے تھے کہ مصلوب ہو گیا اور توریت کی رُو سے مصلوب *** ہوتا ہے۔ یعنی قرب الٰہی سے مہجوراور رفع کی عزت سے بے نصیب رہتا ہے اور شانِ نبوت اس حالتِ ذلّت سے برتر واعلیٰ ہے۔ اور عیسائیوں نے یہودیوں کی لعن و طعن سے گھبرا کر یہ جواب بنا لیا تھا کہ مسیح کا مصلوب ہونا اُس کے لئے مضر نہیں بلکہ یہ *** اُس نے اِس لئے اپنے ذمہ لے لی کہ تاگنہگاروں کو *** سے چھڑاوے۔سو خدائے تعالیٰ نے ایسافیصلہ کیا کہ ان دونوں فریق کے بیانات مذکورہ بالا کو کالعدم کردیا اور ظاہر فرمادیاکہ کسی کو اِن دونوں گروہ میں سے مسیح کے مصلوب ہونے پر یقین نہیں اور اگر ہے تو وہ سامنے آوے۔ سو وہ بھاگ گئےؔ اور کسی نے دم بھی نہ مارا اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کا ایک معجزہ ہے جو اس زمانہ کے نادان مولویوں کی نگاہ سے چُھپا ہوا ہے اور مجھے اُس ذات کی قسم ہے کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی اور اسی وقت کشفی طور پر یہ صداقت مذکورہ بالا میرے پر ظاہر کی گئی ہے اور اُسی معلّم حقیقی کی تعلیم سے میں نے وہ سب لکھا ہے جو ابھی لکھا ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔
اور عقلی طورپر بھی اگر دیکھا جائے تو اس بیان کی سچائی پر ہر یک عقل سلیم گواہی دے گی کیونکہ خدائے تعالیٰ کا کلام لغوباتوں سے منزّہ ہونا چاہیئے۔ اور ہریک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر اس بحث میں یہ مقاصدعظمیٰ درمیان نہ ہوں تو یہ سارا بیان ایسا لغو ہوگا