اعجازی بیان ہے اور یہ اس آیت کے موافق ہے جیسا کہ یہودیوں کو فرمایا تھا 33 ۱؂ سو اس فرمانے سے مدعا یہ تھا کہ درحقیقت یہودیوں کا یہ بیان کہ ہم نے درحقیقت مسیح کو پھانسی دے دیا جس سے یہ نتیجہ نکالنامنظور تھا کہ نعوذ باللہ مسیح ملعون ہے اور نبی صادق نہیں۔اورایسا ہی عیسائیوں کا یہ بیان کہ درحقیقت مسیح پھانسی کی موت سے مر گیا جس سے یہ نتیجہ نکالنا منظو ر تھا کہ مسیح عیسائیوں کے گناہ کے لئے کفّارہ ہوا۔ یہ دونوں خیال یہودیوں اور عیسائیوں کے غلط ہیں اور کسی کو ان دونوں گروہ میں سے اِن خیالات پر دلی یقین نہیں بلکہ دلی ایمان اُن کا صرف اِسی پر ہے کہ مسیح یقینی طور پر مصلوب نہیں ہوا۔اس تقریر سے خدائے تعالیٰ کا یہ مطلب تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی خاموشی سے منصفین قطعی طور پر سمجھ لیویں کہ اس بارے میں بجُر شک کے اُن کے پاس کچھ نہیں اور یہودی اور عیسائی جو اس آیت کو سُن کر چُپ رہے اور انکارکے لئے میدان میں نہ آئے تو اس کی یہ وجہ تھی کہ وہ خوب جانتے تھے کہ اگر ہم مقاؔ بل پر آئے اور وہ دعوےٰ کیا جو ہمارے دل میں نہیں تو ہم سخت رُسوا کئے جائیں گے اور کوئی ایسا نشان خدائے تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہو جائے گا جس سے ہمارا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے گا۔ اس لئے انہوں نے دم نہ مارا اور چُپ رہے۔اور اگر چہ وہ خوب جانتے تھے کہ ہماری اس خاموشی سے ہمارا مان لینا ثابت ہوجائے گا جس سے ایک طرف تو ان کفارکے اس عقیدہ کی بیخ کنی ہو گی اور ایک طرف یہ یہودی عقیدہ باطل ثابت ہوجائے گا کہ مسیح خدائے تعالیٰ کا سچا رسول اور راستباز نہیں اوراُن میں سے نہیں جن کا خدائے تعالیٰ کی طرف عزت کے ساتھ رفع ہوتا ہے۔ لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی چمکتی ہوئی تلوار اُن کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ پس جیسا کہ قرآن شریف میں انہیں کہا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو موت کی تمنّا کرو۔لیکن مارے خوف کے کسی نے یہ تمنّا نہ کی۔ اسی طرح اس جگہ بھی مارے خوف کے انکارنہ کر سکے۔یعنی یہ دعویٰ نہ کر سکے کہ ہم تومسیح کے مصلوب ہونے پر یقین رکھتے ہیں ہمیں کیوں بے یقینوں میں