جس کے تحت کوئی حقیقت نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ جھگڑاکہ کوئی نبی پھانسی ملا یا اپنی طبعی موت سے مرا بالکل بے فائدہ جھگڑا ہے جس سے کوئی عمدہ نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ سو غوؔ ر سے دیکھنا چاہیئے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اس پُر جوش اور کرّوفر کے بیان میں کہ کسی یہودی یا عیسائی کو یقینی طورپر مسیح کی مصلوبیت پر ایمان نہیں کونسی بڑی غرض رکھتا ہے ؟ اور کونسا بھار ا مدعا اس کے زیر نظر ہے جس کے اثبات کے لئے اُس نے دونوں فریق یہوداور نصاریٰ کو خاموش اور لاجواب کر دیا ہے۔ سو یہی مدعا ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے اپنے اس عاجز بندہ پر کہ جو مولویوں کی نظر میں کافر اورمُلحد ہے اپنے خاص کشف کے ذریعہ سے کھول دیا ہے۔ اے خدا جانم بر اسرارت فدا اُمّیاں را مے دہی فہم و ذکا درجہانت ہمچومن اُمّی کجا ست درجہالت ہا مرا نشو و نما ست کِرمکے بودم مرا کردی بشر من عجب تراز مسیحے بے پدر اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ مسیح کی عدم مصلوبیت پر انجیل کی روسے کوئی استدلال پیدا ہوسکتا ہے یا نہیں یعنی یہ ثابت ہو سکتا ہے یانہیں کہ گو بظاہر صورت مسیح کو صلیب ہی دی گئی ہو مگر تکمیل اس فعلؔ کی نہ ہوئی ہو یعنی مسیح اس صلیب کی وجہ سے وفات یاب نہ ہوا ہو۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اناجیل اربعہ قرآن شریف کے اس قول پر کہ ما قتلوہ وماصلبوہ صاف شہادت دے رہی ہیں کیونکہ قرآن کریم کا منشاء ماصلبوہ کے لفظ سے یہ ہرگز نہیں ہے کہ مسیح صلیب پر چڑھایا نہیں گیا بلکہ منشاء یہ ہے کہ جو صلیب پر چڑھانے کا اصل مدعا تھا یعنی قتل کرنا اس سے خدائے تعالیٰ نے مسیح کو محفوظ رکھا اور یہودیوں کی طرف سے اس فعل یعنی قتلِ عمد کا اقدام تو ہوا مگر قدرت اور حکمتِ الٰہی سے تکمیل نہ پا سکا۔ اور جیسا کہ انجیلوں میں لکھا ہے یہ واقعہ پیش آیا کہ جب پیلا طوس سے صلیب دینے کے لئے یہودیوں نے مسیح کوجو حوالات میں تھا مانگا تو پلا طوس نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح مسیح کو چھوڑ دے کیونکہ وہ صاف دیکھتا تھا کہ مسیح بے گناہ ہے لیکن یہودیوں نے