عیسیٰ ابن مریم سچا رسول ہوتا تو ہم اس کو پھانسی دینے پر ہرگز قادر نہ ہو سکتے کیونکہ توریت بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ مصلوب *** ہوتا ہے) اب قرآن شریف اس آیت کے بعد فرماتا ہے کہ درحقیقت یہودیوں نے مسیح ابن مریم کو قتل نہیں کیا اور نہ پھانسی دیا بلکہ یہ خیال اُن کے دلوں میں شعبہ کے طور پر ہے یقینی نہیں اور خدائے تعالیٰ نے ان کو آپ ہی شبہ میں ڈال دیا ہے تا اُن کی بیوقوفی اُن پر اور نیز اپنی قادریت اُن پر ظاہر کرے۔ اور پھر فرمایا کہ وہ لوگ جو اس شک میں پڑے ہوئے ہیں کہ شاید مسیح پھانسی ہی مل گیا ہو اُنکے پاس کوئی یقینی و قطعی دلیل اس بات پر نہیں صرف ایک ظن کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور وہ خوب جانتے ہیں کہ انہیں یقینی طورپر اس بات کا علم نہیں کہ مسیحؔ پھانسی دیا گیا بلکہ یقینی امر یہ ہے کہ وہ فوت ہوگیا اور اپنی طبعی موت سے مرا اور خدائے تعالیٰ نے اس کو راستباز بندوں کی طرح اپنی طرف اُٹھا لیا۔ اورخداعزیز ہے اُن کو عزت دیتا ہے جو اس کے ہو رہتے ہیں اورحکیم ہے اپنی حکمتوں سے اُن لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے جو اس پر توکل کرتے ہیں۔ اورپھر فرمایا کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر( جو ہم نے اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کیا ہے )ایمان نہ رکھتا ہو قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لاوے جو مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا یعنی ہم جو پہلے بیان کر آئے ہیں کہ کوئی اہل کتاب اس بات پر دلی یقین نہیں رکھتا کہ درحقیقت مسیح مصلوب ہو گیا ہے کیا عیسائی اور کیایہودی صرف ظن اور شبہ کے طورپر اُن کے مصلوب ہونے کاخیال رکھتے ہیں۔یہ ہمارا بیان صحیح ہے کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ ہاں اس کی موت کے بارہ میں اُنہیں خبر نہیں کہ وہ کب مرا۔ سو اس کی ہم خبر دیتے ہیں کہ وہ مر گیا اوراسکی روح عزّت کے ساتھ ہماری طرف اُٹھائی گئی۔ اس جگہ یاد رہے کہ خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایساؔ نہیں کہ ہمارے اس بیان پر جو اُن کے خیالات کے بارہ میں ہم نے ظاہرکیا ایمان نہ رکھتا ہو۔ یہ ایک