پَیرواِ ن حدیثوں کو پڑھ کر کس قدر شرمندہ ہوں گے۔ یہ بھی مانا گیا اور مسلم میں موجود ہے کہ مسیح کے بعد شریر رہ جائیں گے جن پر قیامت آئے گی ۔اگر کوئی کافر نہیں رہے گا تو وہ کہاں سے آجائے گی۔
اب بالطبع یہ سوال پیدا ہوگا کہ اگرآیت متذکرہ بالا کے وہ معنے صحیح نہیں ہیں تو پھر کون سے معنے صحیح ہیں ؟ تو اس کے جواب میں واضح ہو کہ صحیح معنے وہی ہیں جو اس مقام کی تما م آیات متعلقہ پرنظر ڈالنے سے ضروری التسلیم معلوم ہوتے ہیں جن کے ماننے سے کسی وجہ کا نقص لازم نہیںؔ آتا۔ سو اوّل وہ تما م آیتیں ذیل میں ذکر کرتا ہوں۔پھر بعد اس کے وہ حقیقی معنے جو اِن آیات کی رُو سے ثابت ہوتے ہیں ثابت کروں گا۔ اورآیات یہ ہیں :۔
ترجمہ:۔ اور یہودی جوخدائے تعالیٰ کی رحمت اور ایمان سے بے نصیب ہو گئے اس کا سبب اُن کے وہ برے کام ہیں جو انہوں نے کئے۔ منجملہ اُن کے یہ ہے کہ انہوں نے کہاکہ لو ہم نے اس مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کر دیا جو رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا تھا (یہودیوں کا یہ کہنا کہ ہم نے عیسیٰ رسول اللہ کو قتل کر دیا اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ حضرت مسیح کو رسول جانتےؔ تھے کیونکہ اگر وہ اس کو سچا رسول جانتے تو سُولی دینے کے لئے کیوںآمادہ ہوتے بلکہ یہ قول اُن کا کہ لو ہم نے اس رسول کو پھانسی دے دیا بطوراستہزاء کے تھا اور اس ہنسی ٹھٹھے کی بِنا ء توریت کے اس قول پر تھی جو لکھا ہے کہ جو پھانسی دیا جائے وہ ملعون ہے یعنی خدائے تعالیٰ کی رحمت اور قرب الٰہی سے دُور و مہجور ہے۔ اور یہودیوں کے اس قول سے مدعا یہ تھا کہ اگر