آسمان سے نازل ہوتا لیکن اب مرنے کے بعد اُن کا ایمان لانا کیوں کر ممکن ہے ؟
بعض لوگ نہایت تکلّف اختیار کر کے یہ جواب دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت خدائے تعالیٰ اُن سب اہل کتاب کو پھر زندہ کرے جو مسیح کے وقتِ بعث سے مسیح کے دوبارہ نزول تک کفرؔ کی حالت میں مر گئے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یوں تو کوئی کام خدائے تعالیٰ سے غیر ممکن نہیں لیکن زیر بحث تو یہ امر ہے کہ کیا قرآن کریم اوراحادیثِ صحیحہ میں ان خیالات کا کچھ نشان پایا جاتا ہے اگر پایا جاتا ہے تو کیوں وہ پیش نہیں کیا جاتا ؟۔
بعض لوگ کچھ شرمندے سے ہو کر دبی زبان یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ اہلِ کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے اوروہ سب مسیح کو دیکھتے ہی ایمان لے آویں گے اور قبل اس کے جو مسیح فوت ہو وہ سب مومنوں کی فوج میں داخل ہوجائیں گے۔ لیکن یہ خیال بھی ایسا باطل ہے کہ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں اوّل تو آیت موصوفہ بالا صاف طور پر فائدہ تعمیم کا دے رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے لفظ سے تمام وہ اہل کتاب مراد ہیں جو مسیح کے وقت میں یا مسیح کے بعد برابر ہوتے رہیں گے۔اورآیت میں ایک بھی ایسالفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص محدود زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔ علاوہ اس کے یہ معنے بھی جو پیش کئے گئے ہیں ببداہت فاسد ہیں۔ کیونکہ احادیث بآواز بلندؔ بتلا رہی ہیں کہ مسیح کے دم سے اُس کے منکر خواہ وہ اہل کتاب ہیں یا غیر اہل کتاب کفر کی حالت میں مریں گے * اور کچھ ضرورنہیں کہ ہم بار بار ان حدیثوں کو نقل کریں۔ اسی رسالہ میں اپنے موقعہ پر دیکھ لینا چاہیئے ماسوا اس کے مسلمانوں کا یہ عقیدہ مسلّمہ ہے کہ دجّال بھی اہل کتاب میں سے ہی ہو گا اور یہ بھی مانتے ہیں کہ وہ مسیح پر ایمان نہیں لائے گا۔ اب میں اندازہ نہیں کر سکتا کہ اس خیال کے
مسیحی دم سے مرجانے کے حقیقی معنے ہم بیان کر آئے ہیں کہ اس سے مراد حجت اور بیّنہ کی رو سے مرنا ہے۔ ورنہ دور از ادب بات ہے کہ یہ خیال کیاجائے کہ کوئی زہر ناک اور وبائی مادہ مسیح کے مُنہ سے نکل کراور ہوا سے ملکرکمزور کافروں کو ماریگا مگر دجال کو مار نہیں سکے گا۔ منہ