بند کی بند ہی رہیں ! سو چونکہ فروخت کا دائرہ نہایت تنگ اور اصل مدعا کا سخت حارج اور چند سال کے کام کو صد ہا برسوں پر ڈالتا ہے۔ اور مسلمانوں میں سے ایسا کوئی فراخ حوصلہ اور عالی ہمّت امیر بھی اب تک اس طرف متوجہ نہیں ہوا کہ ہماری تالیفاتِ جدیدہ کے بہت سے نسخے خرید کر کے محض للہ تقسیم کیا کرتا۔ اور اسلام میں عیسائی مشن کی طرح کوئی ایسی سوسائٹی بھی نہیں جو اس کام کے لئے مدد دے سکے ٭ اورعمرکا بھی اعتبار نہیں۔ تاہم لمبی عمر کی امید پر کسی دور دراز وقت کے منتظر رہیں۔ لہذا میں نے اپنی تمام تالیفات میں ابتدا سے التزامی طور پر یہی مقررکر رکھا ہے کہ جہاں تک بس چل سکتا ہے بہت سا حصہ کتابوں کا مفت تقسیم کر دیا جائے تاجلدی سے اور عام طور پر یہ کتابیں جو سچائی کے نُور سے بھری ہوئی ہیں دنیا میں پھیل جائیں۔ مگر چونکہ میری ذاتی مقدرت ایسی نہیں تھی کہ میں اس بارِ عظیم کو تن تنہا اُٹھا سکتا اور دوسری شاخوں کے مصارف عظیمہ بھی اس شاخ کے ساتھ لاحق تھے اس لئے یہ کام طبع تالیفات کا ایک حد تک چل کر آگے رُک گیا جو آج تک رُکا ہوا ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کی تمام شاخوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا ہے اور بنظر مساوات ان سب کی تکمیل اور ان سب کا قیام چاہتا ہے لیکن ان پنجگانہ شاخوں کے مصارف اس قدر ہیں کہ جن کے لئے مخلصین کی خاص توجہ اور ہمدردی کی ضرورت ہے۔ اگر مَیں اِن دینی مصارف کی مفصّل حقیقت لکھوں تو بہت طول ہو جائے گا۔ مگر اے بھائیو! تم نمونہ کے طور پر صرف واردین اور صادرین کے ہی سلسلہ پر نظر ڈال کردیکھو کہ اب تک سات سال کے عرصہ میں ساٹھ ہزار کے قریب یا اس سے کچھ زیادہ مہمان آیا ہے۔ اب تم اندازہ کر سکتے ہو
بیان کیا جاتا ہے کہ برٹش اور فارن بائبل سوسائٹی نے ابتدا قیام سے یعنی گذشتہ اکیس ۱۲ سال کے عرصہ میں عیسائی مذہب کی تائید میں سات کروڑ سے کچھ زیادہ اپنی مذہبی کتابیں تقسیم کر کے دنیا میں پھیلائی ہیں۔ اس وقت کے ذی مقدرت مگر کاہل مسلمانوں کو یہ مضمون جو اکتوبر اور نومبر ۰۹۸۱ئکے اخبارات میں چھپ کر شائع ہوا ہے بہ نظر غورو شرم پڑھنا چاہیئے۔ کیا یہ کتابیں بیچنے والوں کے ہاتھ سے شائع ہو ئی ہیں یا ایک قوم کی سر گرم سو سائٹی نے اپنے دین کی امداد میں مفت بانٹی ہیں۔ منہ