بہشت میں ہی موجود تھا۔ جاننا چاہیئے کہ تمام انبیاء اور صدیق مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جاتے ہیں اور ایک نورانی جسم بھی انہیں عطاؔ کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی بیداری میں راستبازوں سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ اس بارہ میں یہ عاجز خودصاحب تجربہ ہے۔ پھر اگر عزیرؑ کو خدائے تعالیٰ نے اسی طرح زندہ کر دیا ہو تو تعجب کیا ہے لیکن اس زندگی سے یہ نتیجہ نکالنا کہ وہ زندہ ہو کر بہشت سے خارج کئے گئے یہ عجب طور کی نادانی ہے بلکہ اس زندگی سے تو بہشت کی تجلّی زیادہ تر بڑھ جاتی ہے۔
(۴)سوال۔ قرآن شریف کی آیت مندرجہ ذیل مسیح ابن مریم کی زندگی پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے 3 ۱ کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ مسیح کی موت سے پہلے تمام اہل کتاب اس پر ایمان لے آویں گے۔ سوا س آیت کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرور ہے کہ مسیح اس وقت تک جیتا رہے جب تک کہ تمام اہل کتاب اس پر ایمان لے آویں۔
امّا الجواب۔ پس واضح ہو کہ سائل کو یہ دھوکا لگا ہے کہ اس نے اپنے دل میں یہ خیال کر لیا ہے کہ آیت فرقانی کا یہ منشاء ہے کہ مسیح کی موت سے پہلے تمام اہل کتاب کے فرقوں کا اُس پر ایمان لانا ضروری ہےؔ ۔کیونکہ اگر ہم فرض کے طور پر تسلیم کر لیں کہ آیت موصوفہ بالا کے یہی معنے ہیں جیسا کہ سائل سمجھا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ زمانہ صعود مسیح سے اس زمانہ تک کہ مسیح نازل ہو جس قدر اہل کتاب دنیا میں گذرے ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ سب مسیح پر ایمان لانے والے ہوں۔ حالانکہ یہ خیال ببداہت باطل ہے۔ ہر یک شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر اب تک واصل جہنم ہو چکے ہیں اورخداجانے آئندہ بھی کس قدر کفر ان کی وجہ سے اس آتشی تنور میں پڑیں گے اگرخدائے تعالیٰ کا یہ منشاء ہوتا کہ وہ تمام اہل کتاب فوت شدہ مسیح کے نازل ہونے کے وقت اُس پر ایمان لاویں گے تو وہ اُن سب کو اُس وقت تک زندہ رکھتا جب تک کہ مسیح