کھڑکی کھولی جائے اور شہید لوگ دنیا سے رخصت ہوتے ہی ہر یک پھل بہشت کا چُن چُن کر کھانے لگیں۔ اگر بہشت میں داخل ہونا کامل ایمان کامل اخلاص کامل جانفشانی پر موقوف ہے تو بلا شبہ نبیوں اور صدیقوں سے اَور کوئی بڑھ کر نہیں جن کی تمام زندگی خدائے تعالیٰ کے لئے وقف ہوجاتی ہے اور جو خدائے تعالیٰ کی راہ میں ایسے فِدا ہوتے ہیں کہ بس مر ہی رہتے ہیں اور تمنّا رکھتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی راہ میں شہید کئے جائیں اورپھر زندہ ہوں اور پھر شہید کئے جائیں اور پھر زندہ ہوں اور پھر شہید کئے جائیں۔ اب ہماری اس تمام تقریر سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ بہشت میں داخل ہونے کے لئے ایسے زبردست اسباب موجود ہیں کہ قریبًا تمام مومنین یوم الحساب سے پہلے اس میں پورے طور پر داخل ہو جائیں گے اور یوم الحساب اُن کو بہشت سے خارج نہیں کرے گا بلکہ اُس وقت اَور بھی بہشت نزدیک ہو جائیگا۔ کھڑؔ کی کی مثال سے سمجھ لینا چاہیئے کہ کیوں کر بہشت قبر سے نزدیک کیا جاتا ہے۔کیا قبر کے متصل جو زمین پڑی ہے اُس میں بہشت آجاتا ہے ؟ نہیں۔ بلکہ روحانی طورپر نزدیک کیا جاتا ہے۔ اسی طرح روحانی طورپر بہشتی لوگ میدانِ حساب میں بھی ہوں گے او ربہشت میں بھی ہوں گے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری قبر کے نیچے روضہ بہشت ہے۔ اِس پر خوب غور کرو کہ یہ کس بات کی طرف اشارہ ہے ؟ اورعُزیرؑ کے فوت ہونے اورپھر سو برس کے بعد زندہ ہونے کی حجت جو پیش کی گئی ہے یہ حجّت مخالف کے لئے کچھ مفید نہیں ہے کیونکہ ہرگز بیان نہیں کیا گیا کہ عُزیرؑ کو زندہ کر کے پھر دنیاکے دارالہموم میں بھیجا گیا تا یہ فساد لازم آوے کہ وہ بہشت سے نکالا گیا بلکہ اگراِن آیات کو اُن کے ظاہری معانی پر محمول کیا جاوے تو صرف یہ ثابت ہوگا کہ خدائے تعالیٰ کے کرشمۂ قدرت نے ایک لمحہ کے لئے عزیرؑ کو زندہ کرکے دکھلا دیا تا اپنی قدرت پر اس کو یقین دلا دے۔ مگر وہ دنیا میں آنا صرف عارضی تھا اور دراصل عزیر