مزہ نہیں چکھتے۔ دوسرا درجہ۔ پھر اس درجہ سے اوپر جو ابھی ہم نے بہشتیوں اور دوزؔ خیوں کے لئے بیان کیا ہے ایک اور درجہ دخولِ جنت دخول جہنم ہے جس کو درمیانی درجہ کہنا چاہیئے اور حشر اجساد کے بعد اورجنت عظمیٰ یا جہنم کبریٰ میں داخل ہونے سے پہلے حاصل ہو تا ہے اوربوجہ تعلق جسد کامل قویٰ میں ایک اعلیٰ درجہ کی تیزی پیداہو کر اورخدائے تعالیٰ کی تجلی رحم یا تجلی قہر کا حسب حالت اپنے کامل طورپر مشاہدہ ہو کر اور جنت عظمیٰ کو بہت قریب پا کر یا جہنم کبریٰ کو بہت ہی قریب دیکھ کر وہ لذات یا عقوبات ترقی پذیرہوجاتے ہیں جیساکہ اللہ جلَّ شَانُہٗ آپ فرماتا ہے وَبُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِلْغٰوِيْنَۙ؂۱ وَاُزْلِفَتِ الْجَـنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَۙ‏ اُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ۔ ؂۲‏ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ۔ ؕ‏ وَوُجُوْهٌ يَّوْمَٮِٕذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌۙ ۔ ‏وُجُوْهٌ يَّوْمَٮِٕذٍ مُّسْفِرَةٌۙ ۔ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ ۔ ‌ۚ‏‏ اس دوسرے درجہ میں بھی لوگ مساوی نہیں ہوتے بلکہ اعلیٰ درجہ کے بھی ہوتے ہیں جو بہشتی ہونے کی حالت میں بہشتی انوار اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ اُنہیں کی طرف اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتا ہے نُوْرُهُمْ يَسْعٰى بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ ؂۳ ایساہی دوزخی ہونے کی حالت میں اعلیٰ درجہ کے کفار ہوتے ہیں کہ قبل اس کے جو کامل طور پر دوزخ میں پڑیں اُن کے دلوں پر دوزخ کی آگ بھڑکائی جاتیؔ ہے جیسا کہ اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتا ہے الَّتِىْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِؕ‏ نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ ؂۴ پھر اس درجہ کے اُوپر جو آخری درجہ ہے تیسرا درجہ ہے جو منتہائے مدارج ہے جس میں یوم الحساب کے بعد لوگ داخل ہوں گے اوراکمل اور اتم طور پر سعادت یا شقاوت کا مزہ چکھ لیں گے۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ ان تینوں مدارج میں انسان ایک قسم کے بہشت یا ایک قسم کے دوزخ میں ہوتا ہے اورجبکہ یہ حال ہے تو اس صورت میں صاف ظاہرہے کہ اِن مدارج میں سے کسی درجہ پر ہونے کی حالت میں انسان بہشت یا دوزخ میں سے نکالا نہیں جاتا۔ ‏ ۱؂ الشعراء:۹۱، ۹۲ ۲؂ عبس: ۳۹،۴۲ ۳؂ التحریم: ۹ ۴؂ الھمزۃ: ۷، ۸