ہاں جب اس درجہ سے ترقی کرتا ہے تو ادنیٰ درجہ سے اعلیٰ درجہ میں آجاتا ہے۔ اس ترقی کی ایک یہ بھی صورت ہے کہ جب مثلًا ایک شخص ایمان اور عمل کی ادنیٰ حالت میں فوت ہوتا ہے تو تھوڑی سی سوراخ بہشت کی طرف اس کے لئے نکالی جاتی ہے کیونکہ بہشتی تجلّی کی اُسی قدراس میں استعداد موجود ہوتی ہے۔ پھر بعد اس کے اگر وہ اولاد صالح چھوڑ کر مرؔ ا ہے جو جدو جہد سے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور صدقات و خیرات اُس کی مغفرت کی نیت سے مساکین کو دیتے ہیں یا ایسے کسی اہل اللہ سے اس کی محبت تھی جو تضرعات سے جناب الٰہی سے اس کی بخشش چاہتا ہے یا کوئی ایساخلق اللہ کے فائدہ کا کام وہ دنیا میں کرگیا ہے جس سے بندگانِ خدا کو کسی قسم کی مد د یا آرام پہنچتا ہے تو اس خیر جاری کی برکت سے وہ کھڑکی اس کی جو بہشت کی طرف کھولی گئی دن بدن اپنی کشادگی میں زیادہ ہوتی جاتی ہے اورسبقت رحمتی علی غضبی کا منشاء اور بھی اس کو زیادہ کرتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ کھڑکی ایک بڑا وسیع دروازہ ہو کر آخر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ شہیدوں اور صدیقوں کی طرح وہ بہشت میں ہی داخل ہوجاتا ہے۔اس بات کو سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات شرعًا وانصافًا وعقلًا بے ہُودہ ہے کہ ایساخیال کیا جائے کہ باوجود اس کے کہ ایک مرد مسلم فوت شدہ کے بعد ایک قسم کی خیر اس کے لئے جاری رہے اورثواب اوراعمال صالحہ کی بعض وجوہ اس کے لئے کھلی رہیں مگر پھر بھی وہ کھڑکی جو بہشت کی طرف اس کے لئے کھولی گئی ہے ہمیشہ اُتنی کی اُتنی ہی رہے جو پہلے دن کھو لیؔ گئی تھی۔ یاد رکھنا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ نے اس کھڑکی کے کھولنے کے لئے پہلے سے اس قدر سامان کر رکھے ہیں جن سے بتصریح معلوم ہوتا ہے کہ اس کریم کا دراصل منشاء ہی یہی ہے کہ اگر ایک ذرّہ ایمان و عمل لے کر بھی اس کی طرف کوئی سفر کرے تو وہ ذرّہ بھی نشوونما کرتا رہے گا اوراگر کسی اتفاق سے تمام سامان اس خیر کے جومیّت کو اس عالم کی طرف سے پہنچتی ہے نا پیدارہیں تاہم یہ سامان کسی طرح ناپیدا اور گُم نہیں ہو سکتا کہ جو تمام مومنوں