پہلا درجہ جو ایک ادنیٰ درجہ ہے اُس وقت سے شروع ہوتا ہے کہ جب انسان اس عالم سے رخصت ہو کر اپنی خواب گاہ قبر میں جا لیٹتا ہے اور اس درجہ ضعیفہ کو استعارہ کے طور پر احادیث نبویہ میں کئی پیرایوں میں بیان کیا گیا ہے۔ منجملہ اُن کے ایک یہ بھی پیرایہ ہے کہ میّت عبد صالح کے لئے قبر میں جنت کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے جس کی راہ سے وہ جنت کی باغ و بہار دیکھتا ہے اور اس کی دلرُبا ہو ا سے متمتع ہوتا ہے اور اس کھڑکی کی کشادگی بحسب مرتبہ ایمان و عمل اس میّت کے ہوتی ہے لیکن ساتھ اس کے یہ بھی لکھا ہے کہ جو ایسے فنا فی اللہ ہونے کی حالت میں دنیا سے جدا ہوتے ہیں کہ اپنی جان عزیز کو محبوب حقیقی کی راہ میں فدا کردیتے ہیں جیسے شہداء یا وہ صدیق لوگ جو شہداء سے بھی بڑھ کر آگے قدم رکھتے ہیں اُن کے لئے اُن کی موت کے بعد صرف بہشت کی طرف کھڑکی ہی نہیں کھولی جاتی بلکہ وہ اپنے سارے وجود اور تمام قویٰ کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاتے ہیں مگر پھر بھی قیامت کے ؔ دن سے پہلے اکمل اوراتم طورپر لذّات جنت حاصل نہیں کر سکتے۔ ایساہی اس درجہ میں میّت خبیث کے لئے دوزخ کی طرف قبر میں ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے جس کی راہ سے دوزخ کی ایک جلانے والی بھاپ آتی رہتی ہے اور اُس کے شعلوں سے ہر وقت وہ خبیث روح جلتی رہتی ہے لیکن ساتھ اس کے یہ بھی ہے کہ جو لوگ اپنی کثرت نافرمانی کی وجہ سے ایسے فنا فی الشیطان ہونے کی حالت میں دنیا سے جداہوتے ہیں کہ شیطان کی فرمانبرداری کی وجہ سے بکلّی تعلقات اپنے مولیٰ حقیقی سے توڑ دیتے ہیں اُن کے لئے اُن کی موت کے بعد صرف دوزخ کی طرف کھڑکی ہی نہیں کھولی جاتی بلکہ وہ اپنے سارے وجود اور تمام قوےٰ کے ساتھ خاص دوزخ میں ڈال دئے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتاہےمِّمَّا خَطٓيْئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارً ا۱؂ سورہ نوحمگر پھر بھی وہ لوگ قیامت کے دن سے پہلے اکمل اور اتم طور پر عقوبات جہنم کا ۱؂ نوح:۲۶ ۙ