قسموں کی آیات پر نظر ڈالنے سے تعارض معلوم ہوتا ہے قرآن شریف اور احادیث میں ارواح طیّبہ کا بہشت میں مرنے کے بعد داخل ہونا تو بدیہی اور کھلے کھلے طور پر ثابت ہے مگر ایک بھی ایسی آیت یا حدیث نہیں ملے گی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ یوم الحساب میں بہشتی لوگ بہشت سے باہر نکال دئے جائیں گے بلکہ حسب وعدہ الٰہی بہشت میں ہمیشہ رہنا بہشتیوں کا جابجا قرآن شریف اور احادیث میں مندرج ہے۔ ہاں دوسری طرف یہ بھی ثابت ہے کہ قبروں میں سے مردے جی اٹھیں گے اور ہریک شخص حکم سننے کے لئے خدائے تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو گا اور ہریک شخص کے عمل اورایمان کا اندازہ الٰہی ترازو سے اُس پر ظاہرکیا جائے گا۔ تب جو لوگ بہشت کے لائق ہیں بہشت میں داخل کئے جائیں گے اور جو دوزخ میں جلنے کے سزاوار ہیں وہ دوزخ میں ڈال دئے جائیں گے۔
ابؔ واضح ہو کہ اس تعارض کے دور کرنے کے لئے جو آیات اور احادیث میں باہم واقعہ ہے یہ راہ نہیں ہے کہ یہ اعتقادظاہر کیا جائے کہ موت کے بعد تمام روحیں ایک فنا کی حالت میں رہتی ہیں۔ نہ کسی قسم کی اُن کو راحت حاصل ہوتی ہے اور نہ کسی نوع کی عقوبت میں گرفتار ہوتی ہیں اور نہ جنت کی ٹھنڈی ہو ا اُن کو پہنچتی ہے اور نہ دوزخ کی بھاپ ان کو جلاتی ہے کیونکہ ایسااعتقاد نصوص بیّنہ فرقان اور حدیث سے بکلّی مغائر ہے۔ میّت کے لئے جودعاکی جاتی ہے یا صدقات کئے جاتے ہیں اور میّت کی نیّت سے مساکین کو طعام کھلایا جاتا ہے یا کپڑا دیاجاتا ہے اگر اس درمیانی زمانہ میں جو قبل از حشراجساد ہے جنت اور جہنم کا میّت سے کچھ علاقہ نہیں تو یہ سب اعمال ایک مدّت دراز تک بطور عبث کے متصور ہوں گے اور یہ ماننا پڑے گا کہ اِس درمیانی زمانہ میں میت کو راحت اور رنج اورثواب اور عقاب سے کچھ علاقہ نہیں ہوتا حالانکہ ایسا گمان تعلیم نبوی سے سراسرمخالف ہے۔
پس وہ واقعی امر جس سے اِن دونوں قسم کی آیات کا تعارض دو رؔ ہوتا ہے یہ ہے کہ جنت اور جہنم تین درجوں پرمنقسم ہے۔