سعید لوگ بہشت سے باہر نہیں ہوسکتے اور نہ ان چیزوں کے فساد سے بہشت میں کچھ فساد ہو سکتا ہے کیونکہ بہشت اُن کے لئے ایک ایسی عطاہے جو ایک لمحہ کے لئے بھی اس سے محروم نہیں رہ سکتے۔ ایسا ہی قرآن شریف کے دوسرے مقامات میں بھی بہشتیوں کے ہمیشہ بہشت میں رہنے کا جا بجا ذکر ہے اور سارا قرآن شریف اس سے بھرا پڑا ہے۔ جیساکہ فرماتا ہےوَلَهُمْ فِيْهَآ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّهُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ؂۱ اور اُولٰٓٮِٕكَ اَصْحَابُ الْجَـنَّةِ‌‌ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ۲؂ وغیرہ ۔وغیرہ۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ مومن کو فوت ہونے کے بعد بلا توقف بہشت میں جگہ ملتی ہے جیساکہ ان آیات سے ظاہر ہو رہا ہے‏ ‌ۙ قِيْلَ ادْخُلِ الْجَـنَّةَ ؕ قَالَ يٰلَيْتَ قَوْمِىْ يَعْلَمُوْنَۙ بِمَا غَفَرَلِىْ رَبِّىْ وَجَعَلَنِىْ مِنَ الْمُكْرَمِيْنَ۳؂ اور تیسری آیت ‏ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا‌ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَۙ فَرِحِيْنَ بِمَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۙ۴؂ اور احادیث میں تو اس قدر اس کا بیان ہے کہ جس کا باستیفاء ذکر کرنا موجب تطویل ہو گا بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چشم د ید ماجرا بیان فرماتے ہیں کہ ’’مجھے دوزخ دکھلایا گیا تو میں نے اکثر اُس میں عورتیں دیکھیں اور بہشت دکھلایا گیا تو میں نے اکثر اُس میں فقراء دیکھے‘‘۔اور انجیل لوقا باب ۱۶ میں ایک قصہ کے طور پر بیان کیا گیاہے کہ لعزر جو ایک غریب آدمی تھا مرنے کے بعد ابرھام کی گود میں بٹھایا گیا یعنی نعیم جنت سے متمتع ہوا لیکن ایک دولت مند جو انہیں دنوں میں مرا دوزخ میں ڈالا گیا اور اس نے لعزر سے ٹھنڈاؔ پانی مانگا مگراُسے دیا نہ گیا۔ ماسوا اس کے ایسی آیات بھی ہیں جو ظاہر کرتی ہیں جو حشر اجساد ہو گا اور حساب کے بعد بہشتی بہشت میں داخل کئے جائیں گے اور دوزخی دوزخ میں اور بظاہر اِن دونوں‏ „۱؂ البقرۃ:۲۶ ۲؂ البقرۃ:۸۳ ۳؂ یٰسٓ: ۲۷،۲۸ ۴؂ اٰل عمران ۱۷۰۔۱۷۱