(۳) سوال۔ مسیح کے دوبارہ آنے کے ابطال میں جو یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ مسیح کا فوت ہونا ثابت ہے اور ہریک مومن راستباز مرنے کے بعد بہشت میں داخل ہوجا تا ہے اور ہر یک جوؔ بہشت میں داخل ہوجاتا ہے و ہ برطبق آیت وَ
وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ۱ ہمیشہ رہنے کا بہشت میں حق رکھتاہے۔ یہ دلیل صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اگر یہ صحیح ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ قصہ صحیح نہ ہو جو عُزیر نبی کی نسبت قرآن شریف میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ سو ۱۰۰ برس تک مرا رہا اور پھر خدائے تعالیٰ نے اس کو زندہ کیا وجہ یہ کہ برطبق قاعدہ مفروضۂ بالا زندہ ہونے سے یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ بہشت سے خارج کیا گیا۔ایسا ہی اس آیت کو ظاہر پر حمل کرنے سے مُردوں کا قبروں سے جی اُٹھنا اور میدانِ حساب میں ربّ العالمین کے حضورمیں آنا یہ سب باتیں اس آیت کے ایسے معنے کرنے سے کہ راستباز انسان مرنے کے بعد بہشت میں بلا توقف داخل ہوجاتا ہے اور پھراس سے کبھی نہیں نکلتا باطل ہوجاتے ہیں اور مسلّمات عقیدہ اسلام میں ایک سخت انقلاب پیداہوجاتا ہے۔
اماالجواب۔ پس واضح ہو کہ حقیقت میں یہ سچ ہے کہ جو شخص بہشت میں داخل کیا جاتاہے پھر وہ اس سے کبھی خارج نہیں کیا جاتا۔جیساکہ اللہ جلَّ شَانُہٗ مومنین کو وعدہ صادقہ دے کر فرماتاہے
لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَـصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ ۲یعنی بہشت میں داخل ہونے والے ہریک رنج اور تکلیف سے رہا ئی پا گئے اور و ہ کبھی اس سے نکالے نہیں جائیں گے۔ سورۃالحجر الجزو نمبر ۱۴۔ پھر ایک دوسری جگہ فرماتا ہےوَاَمَّا الَّذِيْنَ سُعِدُوْا فَفِىْ الْجَـنَّةِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ ۳
الجزو نمبر ۱۲سورہ ہود۔ یعنی سعید لوگ مرنے کے بعد بہشت میں داخل کئے جاتے ہیں اور ہمیشہ اُس میں رہیں گےجب تک آسمان و زمین ہے اور اگر یہ آسمان اور زمین بدلائے بھی جائیں جیسا کہ قیامت کے آنے کے وقت ہو گا تب بھی
۱ ، ۲ الحجر: ۴۹ ۳ ھود ۱۰۹