عطاہوچکیں اس سے مقرب لوگ باہرؔ نہیں کئے جاتے اور قیامت کے دن میں بحضور ربّ العالمین اُن کا حاضر ہونا اُن کو بہشت سے نہیں نکالتا کیونکہ یہ تو نہیں کہ بہشت سے باہر کوئی لکڑی یا لوہے یا چاندی کا تخت بچھایا جائے گا اور خدائے تعالیٰ مجازی حُکَّام اور سلاطین کی طرح اس پر بیٹھے گا اور کسی قدر مسافت طے کر کے اُس کے حضور میں حاضر ہونا ہو گا۔ تا یہ اعتراض لازم آوے کہ اگر بہشتی لوگ بہشت میں داخل شدہ تجویز کئے جائیں تو طلبی کے وقت انہیں بہشت سے نکلنا پڑے گا اور اس لق و دق جنگل میں جہاں تخت ربّ العالمین بچھایا گیا ہے حاضر ہونا پڑے گا۔ایسا خیال تو سراسر جسمانی اور یہودیت کی سرشت سے نکلا ہوا ہے اور حق یہی ہے کہ ہم عدالت کے دن پر ایمان تو لاتے ہیں اورتخت ربّ العالمین کے قائل ہیں لیکن جسمانی طور پر اس کا خاکہ نہیں کھینچتے اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ اللہ اوررسول نے فرمایا ہے وہ سب کچھ ہو گا لیکن ایسے پاک طور پر کہ جو خدائے تعالیٰ کے تقدس اورتنزّہ اور اس کی تمام صفات کاملہ کے منافی ومغائر نہ ہو۔بہشت تجلّی گاہِ حق ہے یہ کیوں کر کہہ سکیں کہ اُس دن خدائے تعالیٰ ایک مجسم شخص کی طرح بہشتؔ سے باہر اپنا خیمہ یا یوں کہو کہ اپنا تخت بچھوا دے گا بلکہ حق یہ ہے کہ اس دن بھی بہشتی بہشت میں ہوں گے اور دوزخی دوزخ میں لیکن رحم الٰہی کی تجلّی عظمیٰ راستبازوں اور ایمانداروں پر ایک جدید طور سے لذّاتِ کاملہ کی بارش کر کے اور تمام سامان بہشتی زندگی کا حِسّی اور جسمانی طور پر انکو دکھلا کر اُس نئے طورپرکے دارالسلام میں ان کو داخل کردے گی۔ ایسا ہی خدائے تعالیٰ کی قہری تجلّی جہنم کو بھی بعد از حساب اور الزام صریح کے نئے رنگ میں دکھلا کر گویا جہنمی لوگوں کو نئے سرے جہنم میں داخل کریگی۔ روحانی طور پر بہشتیوں کا بلا توقف بعد موت کے بہشت میں داخل ہوجانا اور دوزخیوں کادوزخ میں گرایا جانا بتواتر قرآن شریف اوراحادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ کہاں تک ہم اس رسالہ کو طول دیتے جائیں۔اے خداوند قادر اس قوم پر رحم کر جو کلام الٰہی کو پڑھتے ہیں لیکن وہ پاک کلام اُن کے حلق سے آگے نہیں گذرتا۔