کہ یہ بات ظاہر ہے کہ اِن پنجگانہ شاخوں کے احسن طریق اور وسیع طورپر جاری رہنے کے لئے کس قدر مسلمانوں کی جمہوری امداد درکار ہے۔ مثلاً ایک تالیف کے ہی سلسلہ کو غور کر کے دیکھو کہ اگرہم پوری پوری اشاعت کی غرض سے اس خدمت کو اپنے ذمّہ لیں توا س کی تکمیل کے لئے کیا کچھ مالی وسائل کی ہمیں ضرورت پڑے گی کیونکہ اگر درحقیقت تکمیل اشاعت ہی ہماری غرض ہے تو ہمارا مدعا یہ ہونا چاہیئے کہ ہماری دینی تالیفات جو جواہرات تحقیق اور تدقیق سے پُر اور حق کے طالبوں کو راہ راست پر کھینچنے والی ہیں جلدی سے اور نیز کژت سے ایسے لوگوں کو پہنچ جائیں جو بُری تعلیموں سے متاثر ہو کر مہلک بیماریوں میں گرفتار یا قریب قریب موت کے پہنچ گئے ہیں اور ہر وقت یہ امر ہماری مدّ ِ نظر رہنا چاہیئے کہ جس ملک کی موجودہ حالت ضلالت کے سمِّ قاتل سے نہایت خطرہ میں پڑ گئی ہو بلا توقف ہماری کتابیں اس ملک میں پھیل جائیں اور ہر ایک متلاشی حق کے ہاتھ میں وہ کتابیں نظر آویں۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس مدعا کا بوجہ اکمل و اتم اس طور سے حاصل ہونا ہر گز ممکن نہیں کہ ہم ہمیشہ یہی امر پیش نہاد خاطر رکھیں کہ ہماری کتابیں فروخت کے ذریعہ سے شائع ہوتی رہیں۔اور محض فروخت کے طور پر کتابوں کو شائع کرنا اور نفسانی ملونی کیوجہ سے دین کو دنیا میں گھسیڑ دینا نہایت نکمّا اور قابل اعتراض طریق ہے جس کی شامت کی وجہ سے نہ ہم جلدی سے اپنی کتابیں دنیا میں پھیلا سکتے ہیںاور نہ کثرت سے وہ کتابیں لوگوں کودے سکتے ہیں۔ بلا شبہ یہ بات سچ اوربالکل سچ ہے کہ جس طرح ہم مثلاً ایک لاکھ کتاب کو مفت تقسیم کرنے کی حالت میں صرف بیس روز میں وہ سب کتابیں دُور دُور ملکوں میں پہنچا سکتے ہیں اور عام طور پر ہر ایک فرقہ میں اور ہر جگہ پھیلا سکتے ہیں اور ہر ایک حق کے طالب اور راستی کے متلاشی کو دے سکتے ہیں ایسی اور اس طرح کی اعلیٰ درجہ کی کارروائی قیمت پر دینے کی حالت میں شاید بیس برس کی مدت تک بھی ہم نہیں کر سکیں گے۔ فروخت کی حالت میں کتابوں کو صندوقوں میں بند کر کے ہم کو خریداروں کی راہ دیکھنا چاہیئے کہ کب کوئی آتا ہے یا خط بھیجتا ہے اور ممکن ہے کہ اس انتظار دراز کے زمانہ میں ہم آپ ہی اس دنیا سے رخصت ہو جائیں اور کتابیں صندوقوں میں