دوسرے آسمان میں بغیر حاجت طعام کے یونہی فرشتوں کی طرح زندہ ہے درحقیقت خدائے تعالیٰ کے پاک کلام سے رو گردانی ہے۔
پھر میں کہتا ہوں کہ اگر مسیح اسی جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر زندہ ہے تو خدا تعالیٰ کا آیت ممدوحہ بالا میں یہ دلیل پیش کرنا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر فوت ہو گیا تو اس کی نبوت پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ابتدا سے سارے نبی مرتے ہی آئے ہیں بالکل نکمّی اور لغو بلکہ خلاف واقعہ ٹھہر جائے گی اورخدائے تعالیٰ کی شان اس سے بلند ہے کہ جھوٹ بولے یا خلاف واقعہ کہے۔
اب ظاہر ہے کہ جبکہ مسیح فوت ہو چکا تو اب وہ موت کےؔ بعد آنہیں سکتا اورنہ اُس کے مرنے کے بعد قرآن شریف میں کوئی خبر اُس کے پھر زندہ ہونے کی دی گئی ہے پس بلا شبہ آنے والا مسیح اُس کا کوئی مثیل ہوگا۔ ماسوا اس کے خودآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پاک احادیث میں اس بات کی طرف اشارہ بھی کر دیا ہے کہ آنے والا مسیح دراصل مسیح ابن مریم نہیں ہے بلکہ اس کا مثیل ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جانے والے مسیح کااَور حُلیہ بتلایا ہے اور آنے والے مسیح کا اور حُلیہ ظاہر کیا ہے اور مسیح گذشتہ کی نسبت قطعی طور پر کہا ہے کہ وہ نبی تھا۔ لیکن آنیوالے مسیح کو اُ مّتی کرکے پکارا ہے جیسا کہ حدیث امامکم منکم سے ظاہر ہے۔ اور حدیث علماء اُمّتی کانبیاء بنی اسرائیل میں اشارۃً مثیل مسیح کے آنے کی خبر دی ہے۔چنانچہ اس کے مطابق آنے والا مسیح محدّث ہونے کی وجہ سے مجازًا نبی بھی ہے۔ پس اس سے زیادہ اَور کیا بیان ہو گا۔ ماسوا اس کے حضرت مسیح ابن مریم جس کی روح اُٹھائی گئی برطبق آیت کریمہ
يٰاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَٮِٕنَّةُ ارْجِعِىْ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِىْ فِىْ عِبٰدِىۙ وَادْخُلِىْ جَنَّتِى
۱ بہشت میں داخل ہو چکی۔ اب کیوں کر پھر اس غمکدہ میں آجائیں گو اس کو ہم نے مانا کہ وہ کامل درجہ دخول بہشت کا جو جسمانی اور روحانی دونوں طور پر ہو گا وہ حشر اجساد کے بعد ہر یک مستحق کو عطاکیاجائے گا مگر اب بھی جس قدربہشت کی لذّات
۱ الفجر: ۲۸ تا۳۱