کی کہ اس جگہ رافعک مقدّم اور انّی متوفیک مؤخر ہے۔ مگر ناظرین جانتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کے ابلغ و افصح کلام میں یہ کس قدر بے جا اور اس کلا م کی کسرِشان کا موجب ہے۔ اس جگہ یہ بھی جاننا چاہیئے کہ خدائے تعالیٰ نے جو حضرت مسیح کے حق میں یہ فرمایا کہ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰـكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۱ اس سے ہرگز یہ مرادنہیں کہ مسیح فوت نہیں ہؤا۔کیامرنے کے لئے یہی ایک راہ ہے کہ انسان قتل کیا جائے یا صلیب پر کھینچاجائے ؟ بلکہ اس نفی سے مدعا اور مطلب یہ ہے کہ توریت استثناء باب ۲۱ آیت ۲۳ میں لکھا ہے کہ جو پھانسی دیا جاتا ہے خداکا ملعون ہے۔ اور یہود جنھوں نے اپنے زعم میںؔ حضرت عیسیٰ کو پھانسی دے دیا تھا وہ بہ تمسک اس آیت کے یہ خیال رکھتے تھے کہ مسیح ابن مریم نہ نبی تھا اور نہ مقبول الٰہی کیونکہ وہ پھانسی دیا گیا اور توریت بیان کر رہی ہے کہ جو شخص پھانسی دیا جائے وہ *** ہوتا ہے۔سوخدائے تعالیٰ کو منظور تھا کہ اصل حقیقت ظاہرکرکے اُن کے ا س قول کو ردّ کرے سو اس نے فرمایا کہ مسیح ابن مریم درحقیقت مصلوب نہیں ہوا ا ور نہ مقتول ہوا بلکہ اپنی موت سے فوت ہوا۔
(۲)سوال۔ یہ کہاں اور کس کتاب میں لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم جس کے آنے کا وعدہ دیا گیا وہ درحقیقت مسیح ابن مریم نہیں ہے بلکہ کوئی اس کا مثیل مرادہے ؟
جواب۔ اس بات کوپہلے تو قرآن شریف ہی بتصریح ذکر کر چکا ہے جبکہ اس نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ کوئی نبی نہیں آیا جو فوت نہ ہوا ہو۔ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُؕ اَفَا۟يِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ ۲ وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُـلْدَؕ ۳ وَمَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا يَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوْا خٰلِدِيْنَ ۴اب ظاہر ہے کہ باوجود اِن تمام آیات کے جو بآواز بلند مسیح کی موت پر شہادت دے رہی ہیں پھر بھی مسیح کوزندہ خیال کرنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ برخلاف مفہوم آیت وَمَا جََعَلْنٰھُمْ جَسَدًا لَّا یَأْکلُوْنَ الطَّعَامَ مسیح جسم خاکی کے ساتھ
۱ النساء:۱۵۸ ۲ اٰل عمران:۱۴۵ ۳ الانبیاء:۳۵ ۴ الانبیاء:۹