بلند تر ہے اور اُن کی رُوح مسیح کی روح کی طرح دوسرے آسمان میں نہیں اور نہ حضرت موسیٰ کی روح کی طرح چھٹے آسمان میں بلکہ سب سے بلند تر ہے اسی کی طرف معراج کی حدیث بتصریح دلالت کر رہی ہے بلکہ معالم النبوۃ میں بصفحہ ۵۱۷یہ حدیث لکھی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میں چھٹے آسمان سے آگے گذر گئے تو حضرت موسیٰ نے کہا رَبِّ لَمْ اَظُنُّ اَنْ یُّرْفَعَ عَلَیَّؔ اَحَدٌ یعنی اے میرے خداوند ! مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ کوئی نبی مجھ سے اوپر اُٹھایا جائے گا اور اپنے رفع میں مجھ سے آگے بڑھ جائے گا۔ اب دیکھو کہ رفع کا لفظ محض تحقق درجات کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور آیت موصوفہ بالا کے احادیث نبویہ کی رو سے یہ معنے کھلے کہ ہریک نبی اپنے درجہ کے موافق آسمانوں کی طرف اٹھایا جاتا ہے اور اپنے قرب کے انداز کے موافق رفع سے حصّہ لیتا ہے اور انبیاء اور اولیاء کی روح اگرچہ دنیوی حیات کے زمانہ میں زمین پر ہو مگر پھر بھی اُس آسمان سے اُس کا تعلق ہوتا ہے جو اس کی روح کے لئے حدِّ رفع ٹھہرایا گیا ہے اور موت کے بعد وہ روح اُس آسمان میں جا ٹھہرتی ہے جو اس کے لئے حدِّ رفع مقرّر کیا گیا ہے۔ چنانچہ وہ حدیث جس میں عام طورپر موت کے بعد روحوں کے اُٹھائے جانے کا ذکر ہے اس بیان کی مؤیّد ہے اور چونکہ یہ بحث نہایت صریح اور صاف ہے اور کسی قدر ہم پہلے لکھ بھی چکے ہیں اس لئے کچھ ضرورت نہیں کہ اس کو زیادہ طول دیا جائے۔
اِس مقام میں یہ بھی بیان کرنے کے لائق ہے کہ بعض مفسّروں نےؔ جب دیکھا کہ درحقیقت انیّ متوفّیک میں توفِّی کے معنے وفات دینے کے ہیں اور بعد اس کے جو رافعک الیّ واقع ہے وہ بقرینہ صریحہ وفات کے روح کے رفع پر دلالت کر رہا ہے تو انہیں یہ فکر پڑی کہ یہ صریح ہماری رائے کے مخالف ہے اس لئے انہوں نے گویا اپنے تئیں نظمِ فرقانی کا مصلح قرار دے کر یا اپنے لئے استادی کا منصب تجویز کر کے یہ اصلاح