اب جبکہ توفِّی کے لفظ کی بخوبی تحقیقات ہوچکی اور ثابت ہوگیا کہ تمام قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک یہ لفظ فقط روح کے قبض کرنے کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے تو اب یہ دیکھنا باقی ر ہاؔ کہ اس کے بعد جو فقرہ رافعک الیّ میں رفع کا لفظ ہے یہ کن معنوں پر قرآن شریف میں مستعمل ہے۔
جاننا چاہیئے کہ رَفع کا لفظ قرآن شریف میں جہاں کہیں انبیاء اور اخیار ابرار کی نسبت استعمال کیا گیا ہے عام طور پر اس سے یہی مطلب ہے کہ جو ان برگزیدہ لوگوں کو خدائے تعالیٰ کی جناب میں باعتبار اپنے روحانی مقام اور نفسی نقطہ کے آسمانوں میں کوئی بلند مرتبہ حاصل ہے اس کو ظاہر کر دیا جائے اور ان کو بشارت دی جائے کہ بعد موت و مفارقت بدن اُن کی روح اُس مقام تک جو اُن کے لئے قرب کا مقام ہے اُٹھائی جائے گی۔جیساکہ اللہ جلَّ شَانُہٗ ہمارے سیّد ومولیٰ کا اعلیٰ مقام ظاہر کرنے کی غرض سے قرآن شریف میں فرماتا ہے۔تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ ۱ یعنی یہ تمام رسول اپنے مرتبہ میں یکساں نہیں بعض اُن میں سے وہ ہیں جن کو روبرو کلام کرنے کا شرف بخشا گیا اور بعض وہ ہیں جن کا رفع درجات سب سے بڑھ کر ہے۔
ا سؔ آیت کی تفسیراحادیث نبویہ میں یہی بیان کی گئی ہے کہ موت کے بعد ہریک نبی کی روح آسمان کی طرف اُٹھائی جاتی ہے اوراپنے درجہ کے موافق اس رو ح کو آسمانوں میں سے کسی آسمان میں کوئی مقام ملتا ہے جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس مقام تک اس رُوح کا رفع عمل میں آیا ہے تا جیساکہ باطنی طور پر اس روح کا درجہ تھا خارجی طور پر وہ درجہ ثابت کرکے دکھلایا جائے سو یہ رفع جو آسمان کی طرف ہوتا ہے تحقیق درجات کے لئے وقوع میں آتا ہے اور آیت مذکورہ بالا میں جو رفع بعضھم درجات ہے یہ اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع تمام نبیوں کے رفع سےؕ
۱ البقرۃ:۲۴۵