صرؔ یحۃ الدلالت اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ ۱؂سے ظاہر ہے۔انصاف کی آنکھ سے دیکھنا چاہیئے کہ جس طرح حضرت مسیح کے حق میں اللہ جلّ شَانُہٗ نے قر آن کریم میں اِنِّی مُتَوَفّیِک فر مایا ہے اسی طرح ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہے وَاِمَّا نُرِيَـنَّكَ بَعْضَ الَّذِىْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ ۲؂ یعنی دونوں جگہ مسیح کے حق میں اور ہمارے سیّد و مو لیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تو فِّی کا لفظ مو جود ہے پھر کس قدر ناانصافی کی بات ہے کہ ہمارے سیّد ومولیٰ کی نسبت جو توفِّی کا لفظ آیا ہے تو اس جگہ تو ہم وفات کے ہی معنے کریں اور اُسی لفظ کو حضرت عیسٰی کی نسبت اپنے اصلی اور شائع متعارف معنوں سے پھیر کر اور اُن متفق علیہ معنے سے جو اوّل سے آخر تک قر آن شریف سے ظاہر ہو رہے ہیں انحراف کر کے اپنے دل سے کچھ اَور کے اَور معنے تراش لیں۔اگر یہ الحاد اور تحریف نہیں تو پھر الحاد اورتحریف کس کو کہتے ہیں!!!جس قدر مبسوط تفاسیر دنیا میں موجود ہیں جیسے کشاف اور معالم اور تفسیر رازی اور ابنؔ کثیر اور مدارک اور فتح البیان سب میں زیر تفسیر یاعیسٰی انّی متوفّیک یہی لکھا ہے کہ انّی ممیتک حتف انفک یعنی اے عیسٰی میں تجھے طبعی موت سے مار نیوالا ہوں بغیر اس کے کہ تُو مصلوب یامضروب ہونے کی حالت میں فوت ہو۔ غایت ما فی الباب بعض مفسرین نے اپنی کوتہ اندیشی سے اس آیت کی اَور وجوہ پر بھی تفسیریں کی ہیں۔لیکن صرف اپنے بے بُنیاد خیال سے نہ کسی آیت یا حدیث صحیح کے حوالہ سے۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو اُن سے پوچھا جاتا کہ حق کے ساتھ تم نے باطل کو کیوں اور کس دلیل سے ملایا؟ بہر حال جب وہ اس بات کا اقرار کرگئے کہ منجملہ اقوال مختلفہ کے یہ بھی ایک قول ہے کہ ضرور حضرت مسیح فوت ہوگئے تھے اور ان کی روح اُٹھائی گئی تھی تو ان کی دوسری لغزشیں قابلِ عفو ہیں ان میں سے بعض جیسا کہ صاحبِ کشّاف خود اپنی قلم سے دوسرے اقوال کو قِیْلَ کے لفظ سے ضعیف ٹھہراگئے ہیں۔ ۱؂ اٰل عمران: ۵۶ ۲؂ یونس:۴۷