اُٹھایا بھی وہی جائے گا۔یہ تو نہیں کہ قبض کیا جائے روح اورپھر جسم کو اُٹھایا جائے۔ایسے معنے تو قرآن شریف کی تمام آیات اورمنشائے ربّانی سے صریح صریح مخالف ہیں۔ قرآن شریف نیند کے مقامات میں بھی جو توفِّی کے لفظ کو بطور استعارہ استعمال کرتا ہے اس جگہ بھی صاف فرماتا ہے کہ ہم روح کو قبض کر لیتے ہیں اورجسم کو بے کار چھوڑ دیتے ہیں۔اورموت اور نیند میں صرف اتنا فرق ہے کہ موت کی حالت میں ہم روح کو قبض کر کے پھر چھوڑ تے نہیں بلکہ اپنے پاس رکھتے ہیں۔ اورنیند کی حالت میں ایک مدت تک روح کو قبض کرکے پھر اس روح کو چھوڑ دیتے ہیں اورپھر وہ جسم سے تعلق پکڑ لیتی ہے۔
اب سوچنا چاہیئے کہ کیا یہ بیان قرآن شریف کا اس بات کے سمجھنے کے لئے کافی نہیں کہ خدائے تعالیٰ کو جسم قبض کرنے اوراٹھانے سے دونوں حالتوں موت اورنیند میں کچھ سروکار نہیں بلکہ جیسا کہ اس نے خو دؔ فرمایا ہے یہ جسم خاک سے پیدا کیا گیا ہے اور آخر خاک میں ہی داخل ہوتا ہے۔ خدائے تعالیٰ ابتدائے دنیا سے صرف روحوں کو قبض کرتا آیا ہے اور روحوں کو ہی اپنی طرف اُٹھاتا ہے جبکہ یہی امر واقعی اور یہی صحیح اور سچ ہے تو اس صورت میں اگر ہم فرض بھی کر لیں کہ انّی متوفّیک کے یہی معنے ہیں کہ مَیں تیری روح کو اسی طور سے قبض کرنے والا ہوں جیسا کہ سونے والے کی روح قبض کی جاتی ہے تو پھر بھی جسم کو اس قبض سے کچھ علاقہ نہیں ہو گا اور اس طور کی تاویل سے اگر کچھ ثابت ہوگا تو یہ ہو گا کہ حضرت مسیح کی روح خواب کے طور پر قبض کی گئی اور جسم اپنی جگہ زمین پر پڑا رہا اور پھر کسی وقت روح جسم میں داخل ہوگئی۔اورایسے معنے سراسر باطل اور دونوں فریق کے مقصد کے مخالف ہیں۔ کیونکہ صرف کچھ عرصہ کے لئے حضرت مسیح کا سونا اور پھر جاگ اُٹھنا ہماری اس بحث سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا۔ اورقرآن کریم کی آیت ممدوحہ بالا صاف بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ حضرت مسیح کی روح جو قبض کی گئی تو پھر سونیوالے کی روح کی طرح جسم کی طرف نہیں چھوڑی گئی بلکہ خدائے تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اُٹھا لیا۔جیساکہ الفاظ