اورنیند کے محل پر توفِّی58 کا لفظ صرف دو جگہ قرآن شریف میں آیا ہے اور وہ بھی قرینہ قائم کرنے کے ساتھ۔اوراُن آیتوں میں صاف طورپر بیان کردیا گیا ہے کہ اس جگہ بھی توفِّیْ کے لفظ سے نیند مراد نہیں ہے بلکہ موت ہی مراد ہے اور اس بات کا اظہار مقصود ہے کہ نیند بھی ایک موت ہی کی قسم ہے جس میں روح قبض کی جاتی ہے اور جسم معطل کیا جاتا ہے صرف اتنا فرق ہے کہ نیند ایک ناقص موت ہے اورموت حقیقی ایک کامل موت ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ توفّی کا لفظ جو قرآن شریف میں استعمال کیا گیا ہے خواہ وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل ہے یعنی مو تؔ پر یا غیر حقیقی معنوں پر یعنی نیند پر۔ہریک جگہ اُس لفظ سے مراد یہی ہے کہ روح قبض کی جائے اورجسم معطل اور بے کار کردیا جائے۔اب جبکہ یہ معنے مذکورہ بالا ایک مسلّم قاعدہ ٹھہر چکا جس پر قرآن شریف کی تمام آیتیں جن میں توفِّی کا لفظ موجود ہے شہادت دے رہی ہیں تو اس صورت میں اگر فرض محال کے طور پر ایک لمحہ کے لئے یہ خیال باطل بھی قبول کر لیں کہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کے معنے اِنِّیْ مُنِیْمُکَہے یعنی یہ کے میں تجھے سُلانے والا ہوں تو اس سے بھی جسم کا اُٹھایا جانا غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس جگہ اِنّی متوفّیک کے معنے از روئے قاعدہ متذکرہ بالا یہی کریں گے کہ میں تجھ پر نیند کی حالت غالب کرکے تیری روح کو قبض کرنے والا ہوں۔اب ظاہر ہے کہ انّی متوفّیک کے بعدجو رافعک الیّ فرمایا ہے یعنی میں تیری روح کو قبض کر کے پھر اپنی طرف اُٹھاؤں گا یہ رافعک کا لفظ انیّ متوفّیک کے لفظ سے تعلق رکھتا ہے جس سے ببداہت یہ معنے نکلتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے روح کو قبض کیا اور روح کو ہی اپنی طرف اُٹھایا کیوں کہ جو چیز قبض کی گئی وہی اُٹھائی جائے گی جسم کے قبض کرنے کا توؔ کہیں ذکر نہیں۔ چنانچہ دوسری آیات میں جو نیند کے متعلق ہیں خدائے تعالیٰ صاف صاف فرما چکا ہے کہ نیند میں بھی موت کی طرح روح ہی قبض کی جاتی ہے جسم نہیں قبض کیا جاتا۔اب ہریک شخص سمجھ سکتا ہے کہ جو قبض کیا جاتا ہے