اطلاق پاتا ہے جیسے کہتے ہیں کہ یہ لوہا مرگیا اور کشتہ ہوگیا اورچاندی کا ٹکڑہ مرگیا اورکشتہ ہوگیا۔ایسا ہی تمام جانداراور کیڑے مکوڑے جن کی روح مرنے کے بعد باقی نہیں رہتی اورمورد ثواب و عقاب نہیں ہوتے اُن کے مرنے پر بھی توفّی کا لفظ نہیں بولتے بلکہ صرف یہی کہتے ہیں کہ فلاں جانور مرگیا یا فلاں کیڑامرگیا۔چونکہ خدائے تعالیٰ کو اپنے کلام عزیز میں یہ منظور ہے کہ کھلے کھلے طور پر یہؔ ظاہر کرے کہ انسان ایک ایسا جاندار ہے کہ جس کی موت کے بعد بکلّی اس کی فنا نہیں ہوتی بلکہ ا س کی روح باقی رہ جاتی ہے جس کو قابضِ ارواح اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے اس وجہ سے موت کے لفظ کو ترک کرکے بجائے اس کے توفّی کا لفظ استعمال کیا ہے تا اس بات پر دلالت کرے کہ ہم نے اس پر موت وارد کر کے بکلّی اس کو فنا نہیں کیا بلکہ صرف جسم پرموت وارد کی ہے اور روح کو اپنے قبضہ میں کر لیا ہے اور اس لفظ کے اختیار کرنے میں دہریوں کا ردّ بھی منظور ہے جو بعد موت جسم کے روح کی بقا کے قائل نہیں ہیں۔ جاننا چاہیئے کہ قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک توفِّیْکے معنے روح کو قبض کرنے اور جسم کو بیکار چھوڑ دینے کے لئے گئے ہیں اورانسان کی موت کی حقیقت بھی صرف اسی قدر ہے کہ روح کو خدائے تعالیٰ قبض کر لیتا ہے اورجسم کو اس سے الگ کر کے چھوڑ دیتاہے اور چونکہ نیند کی حالت بھی کسی قدر اس حقیقت میں اشتراک رکھتی ہے اسی وجہ سے مذکورہ بالا دو آیتوں میں نیند کو بھی بطور استعارہ توفِّی کی حالت سے تعبیر کیا ہے کیونکہ کچھؔ شک نہیں کہ نیند میں بھی ایک خاص حد تک روح قبض کی جاتی ہے اور جسم کو بے کار اور معطّل کیاجاتا ہے لیکن توفّی کی کامل حالت جس میں کامل طور پر روح قبض کی جائے اور کامل طور پر جسم بے کار کردیا جائے وہ انسان کی موت ہے اسی وجہ سے توفّی کا لفظ عام طور پر قرآن شریف میں انسان کی موت کے بارے میں ہی استعمال کیا گیا ہے اوراوّل سے آخر تک قرآن شریف اسی استعمال سے بھرا پڑا ہے