بغیر احتیاج قرائن کے یونہی مختصر بیان کر دیتا ہے۔مگر مجاز یا استعارہ نادرہ کے وقت ایسا اختصار پسند نہیں کرتا بلکہ اس کا فرض ہوتا ہے کہ کسی ایسی علامت سے جس کو ایک دانشمند سمجھ سکے اپنے اس مدعا کو ظاہر کرجائے کہؔ یہ لفظ اپنے اصل معنوں پر مستعمل نہیں ہوا۔
اب چونکہ یہ فرق حقیقت اورمجاز کا صاف طورپر بیان ہو چکا تو جس شخص نے قرآن کریم پر اوّل سے آخر تک نظر ڈالی ہوگی اور جہاں جہاں توفِّیکا لفظ موجود ہے بنظرِ غور دیکھا ہو گا وہ ایمانًا ہمارے بیان کی تائید میں شہادت دے سکتا ہے۔چنانچہ بطور نمونہ دیکھنا چاہیئے کہ یہ آیات
(۱) وَاِمَّا نُرِيَـنَّكَ بَعْضَ الَّذِىْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ ۱
(۲) تَوَفَّنِىْ مُسْلِمًا ۲
(۳) وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى ۳
(۴) تَوَفّٰٮهُمُ الْمَلٰٓٮِٕكَةُ ۴
(۵) يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ ۵
(۶) تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا ۶
(۷) رُسُلُـنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْۙ ۷
(۸) تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ ۸
(۹) وَتوَفَّنَا مَعَ الاَبرَ ارِ ۹
(۱۰) ثُمَّ يَتَوَفّٰٮكُمْ ۱۰
کیسی صریح اور صاف طورپر موت کے معنوں میں استعمال کی گئی ہیں مگر کیا قرآن شریف میں کوئی ایسی آیت بھی ہے کہ ان آیات کی طرح مجرد توفّی کا لفظ لکھنے سے اس سے کوئی اور معنے مراد لئے گئے ہوں۔ موت مراد نہ لی گئی ہو۔بلاشبہ قطعی اوریقینی طور پر اوّل سے آخر تک قرآنی محاورہ یہی ثابت ہے کہ ہر جگہ درحقیقت توفّی کے لفظ سے موت ہی مراد ہے تو پھر متنازعہ فیہ دؔ و آیتوں کی نسبت جو اِنِّی مُتَوَفِّیکَ اور فَلَمَّا تَوَ فَّیْتَنِیْ ہیں اپنے دل سے کوئی معنے مخالف عام محاورہ قرآن کے گھڑنا اگرالحاد اور تحریف نہیں تو اور کیا ہے ؟
اور اس جگہ یہ نکتہ بیان کرنے کے لائق ہے کہ قرآن شریف میں ہر جگہ موت کے محل پر توفّی کا لفظ کیوں استعما ل کیا ہے اِمَاتت کا لفظ کیو ں استعمال نہیں کیا ؟ اس میں بھید یہ ہے کہ موت کا لفظ ایسی چیزوں کے فنا کی نسبت بھی بولا جاتا ہے جن پر فنا طاری ہونے کے بعد کوئی روح اُن کی باقی نہیں رہتی۔اسی وجہ سے جب نباتات اور جمادات اپنی صورت نوعیہ کو چھوڑ کر کوئی اَور صُوَر قبول کرلیں تو اُن پر بھی موت کا لفظ
۱ یونس:۴۷ ۲ یوسف:۱۰۲ ۳ الحج: ۶ ۴ النّسآء: ۹۸ ۵ البقرۃ: ۲۴۱ ۶ الانعام : ۶۲
۷ الاعراف: ۳۸ ۸ الاعراف :۱۲۷ ۹ اٰل عمران ۱۹۴ ۱۰ النحل: ۷۱