زمر: مَنَامِهَاۚ فَيُمْسِكُ الَّتِىْ قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَ يُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى
الانعام: وَهُوَ الَّذِىْ يَتَوَفّٰٮكُمْ بِالَّيْلِ وَ يَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَـبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى
اب ظاہر ہے کہ ان تمام مقامات قرآن کریم میں توفّی کے لفظ سے موت اورقبض روح ہی مراد ہے اوردو مؤخر الذکر آیتیں اگر چہ بظاہر نیند سے متعلق ہیں مگر درحقیقت ان دونوں آیتوں میں بھی نیند نہیں مراد لی گئی بلکہ اس جگہ بھی اصل مقصد اورمدعا موت ہے اور یہ ظاہر کرنا منظور ہے کہ نیند بھی ایک قسم کی موت ہی ہے اورجیسی موت میں روح قبض کی جاتی ہے نیند میں بھی روح قبض کی جاتی ہے۔ سو ان دونوں مقامات میں نیند پر توفّی کے لفظ کا اطلاق کرنا ایک استعارہ ہے جو بہ نصب قرینۂ نوم استعمال کیا گیا ہے یعنی صاف لفظوں میں نیند کا ذکر کیا گیا ہے تاہر ایک شخص سمجھ لیوے کہ اسجگہ توفّی سے مراد حقیقی موت نہیں ہے بلکہ مجازی موت مرا دہے جو ؔ نیند ہے۔ یہ بات ادنیٰ ذی علم کو بھی معلوم ہو گی کہ جب کوئی لفظ حقیقت مسلّمہ کے طورپر استعمال کیا جاتاہے یعنی ایسے معنوں پر جن کے لئے وہ عام طور پر موضوع یا عام طور پر مستعمل ہوگیا ہے تو اس جگہ متکلم کے لئے کچھ ضروری نہیں ہوتا کہ اس کی شناخت کے لئے کوئی قرینہ قائم کرے کیونکہ وہ اُن معنوں میں شائع متعارف اور متبادرالفہم ہے لیکن جب ایک متکلم کسی لفظ کے معانی حقیقت مسلّمہ سے پھیر کر کسی مجازی معنی کی طرف لے جاتا ہے تو اس جگہ صراحتًا یا کنایتًا یا کسی دوسرے رنگ کے پَیرائے میں کوئی قرینہ اس کو قائم کرنا پڑتا ہے تا اس کا سمجھنا مشتبہ نہ ہو اور اس بات کے دریا فت کے لئے کہ متکلّم نے ایک لفظ بطور حقیقت مُسلّمہ استعمال کیا ہے یا بطور مجاز اوراستعارہ نادرہ کے بھی کھلی کھلی علامت ہوتی ہے کہ وہ حقیقت مسلّمہ کو ایک متبادر اور شائع و متعارف لفظ سمجھ کر
۱۰۵ (الَّذِىْ يَتَوَفّٰٮكُمْ ) درج ہونے سے رہ گئی ہے۔سید عبدالحئی ۱ اس فہرست میں سورۃ یونس نمبرکی آیت