فضول خیال کرے گا مگر خدا تعالیٰ کی نظر میں یہ سب ضروری ہیں اور جس اصلاح کے لئے اُس نے ارادہ فرمایا ہے وہ اصلاح بجُزاستعمال اِ ن پانچوں طریقوں کے ظہور پذیر نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ یہ تمام کارو بار خدا تعالیٰ کی خاص امداد اور خاص فضل پر چھوڑا گیا ہے اور اس کے انجام پہنچانے کے لئے وہی کافی اور اُسی کے مبشّرانہ وعدے اطمینان بخش ہیں لیکن اُسی کے حکم اور تحریک سے مسلمانوں کو امداد کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ کے تمام نبی جو گذر چکے ہیں مشکلات پیش آمدہ کے وقت پر توجہ دلاتے رہے ہیں سو اُسی توجہ دہی کی غرض سے کہتا ہوں
ارادہ کیا جائے تو وہ جو امامت کامنصب رکھتے ہیں از بس ناراض اور نیلے پیلے ہو جاتے ہیں۔ اور اگر اُن کا اقتدا کیا جائے تو نماز کے ادا ہوجانے میں مجھے شبہ ہے کیونکہ علانیہ طور پر ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے امامت کاایک پیشہ اختیار کر رکھا ہے اور وہ پانچ وقت جا کر نماز نہیں پڑھتے بلکہ ایک دو کان ہے کہ ان وقتوں میں جا کر کھولتے ہیں اور اسی دوکان پر اُن کا اور اُن کے عیال کا گزارہ ہے چنانچہ اس پیشہ کے عزل و نصب کی حالت میں مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے اور مولوی صاحبان امامت کی ڈگری کرانے کے لئے اپیل در اپیل کرتے پھرتے ہیں۔ پس یہ امامت نہیں یہ تو حرا م خوری کا ایک مکروہ طریقہ ہے۔ کیا آپ بھی ایسے نفسانی پیچ میں پھنسے ہوئے نہیں۔ پھر کیوں کر کوئی شخص دیکھ بھال کر اپنا ایمان ضائع کرے۔مساجد میں منافقین کا جمع ہونا جو احادیث نبویہ میں آخری زمانہ کے حالات میں بیان کیا گیا ہے وہ پیشگوئی انہیں مُلاّصاحبوں سے متعلق ہے جو محراب میں کھڑے ہو کر زبان سے قرآن شریف پڑھتے ہیں اور دل میں روٹیاں گنتے ہیں۔اور میں نہیں جانتا کہ ظہراور عصر یا مغرب اور عشا کو سفر کی حالت میں جمع کرنا کب سے منع ہوگیا۔ اور کس نے تاخیر کی حُرمت کا فتویٰ دیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ آپ کے نزدیک اپنے بھائی مردہ کا گوشت کھاناتو حلال ہے مگر سفر کی حالت میں ظہر اور عصر کو ایک جگہ پڑھنا قطعاََ حرام ہے۔ اتقوا اللّٰہ ایھا الموحدون فان الموت قریب واللّٰہ یعلم ما تکتمون۔ منہ۔