پیدا ہوجاتی ہے یہاں تک کہ عالم اورصاحبِ عقل ہونے کے بعد سراسر نادان بچے کی طرح بن جاتے ہیں اورتمام عمر کا آموختہ بیک دفعہ سب بھول جاتا ہے۔
اب چونکہ خدائے تعالیٰ نے طرز حیات کے بارے میں بنی آدم کی صرف دوگروہ میں تقسیم محدود کردی تو بہر حال حضرت مسیح ابن مریم خدائے تعالیٰ کے تمام خاکی بندوں کی طرح اس تقسیم سے باہر نہیں رہ سکتے یہ حکماء کا قانونِ قدرت نہیں جو کوئی اس کو ردّ کردے گا یہ تو سُنّت اللہ ہے جس کو خوداللہ جلَّ شَانُہٗ نے تصریح سے بیان فرمادیا ہے۔
سو اؔ س تقسیم الٰہی کی رو سے لازم آتا ہے کہ یا تو حضرت مسیح مِنْکُمْ مَّنْ یَّتَوَفّٰی میں داخل ہوں اوروفات پا کر بہشت بریں میں اُس تخت پر بیٹھے ہوں جس کی نسبت انہوں نے آپ ہی انجیل میں بیان فرمایا ہے اوریا اگر اس قدر مدّت تک فوت نہیں ہوئے تو زمانہ کی تاثیر سے اس ارذ ل عمر تک پہنچ گئے ہوں جس میں بباعث بیکاری حواس اُن کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔
اورجوخاص طور پر مسیح کے فوت ہوجانے پر آیات بیّنات دلالت کررہی ہیں کچھ ضروری نہیں کہ ہم ان کو بار بار ذکرکریں۔یہ بات ظاہر ہے کہ اگر مسیح ابن مریم اس جماعت مرفوعہ سے الگ ہے جو دنیا سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوکر خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھائی گئی ہے تو ان میں جو عالم آخرت میں پہنچ گئے ہرگز شامل نہیں ہوسکتا بلکہ مرنے کے بعد پھر شامل ہو گا اوراگریہ بات ہوکہ اُن میں جا ملا اوربموجب آیت فَادْخُلِىْ فِىْ عِبٰدِىۙ۱ ان فوت شدہ بندوں میں داخل ہوگیا تو پھر انہیں میں سے شمار کیا جاوے گا۔اورمعراج کی حدیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مسیح اُن فوت شدہ نبیوں میں جاملا اوریحییٰ نبی کے پاسؔ اس کو مقام ملا۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ معنے اس آیت کے کہ اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ ۲ ہے یہ ہوں گے کہ انّی متوفّیک ورافعک الی عبادی المتوفین المقربین و ملحقک بالصّٰلحین۔سو عقلمند کے لئے جو متعصّب نہ ہو اسی قدرکافی ہے کہ اگر مسیح زندہ ہی اُٹھایا گیا تو پھر مُردوں میں کیوں جا گُھسا۔ ہاں اس قدر ذکر کرنا اَور بھی ضروری ہے کہ جیسے بعض نادان یہ خیال کرتے ہیں کہ و ہ آیات ذو معنیین ہیں یہ
۱ الفجر: ۳۰ ۲ اٰل عمران: ۵۶