خیال سراسرفاسد ہے مومن کا یہ کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے بلکہ قرآن شریف کے بعض مقامات بعض دوسرے مقامات کے لئے خود مفسّر اورشارح ہیں۔ اگر یہ بات سچ نہیں کہ مسیح کے حق میں جو یہ آیتیں ہیں کہ انّی متوفّیک اورفلمّا توفّیتنی یہ درحقیقت مسیح کی موت پر ہی دلالت کرتی ہیں بلکہ ان کے کوئی اورمعنے ہیں تو اس نزاع کا فیصلہ قرآن شریف سے ہی کرانا چاہیئے۔اوراگر قرآن شریف مساوی طورپر کبھی اس لفظ کو موت کے لئے استعمال کرتا ہے اورکبھی ان معنوں کے لئے جو موت سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے تومحل متنازعہ فیہ میں مساوی طورپر احتمال رہے گااورؔ ا گر ایک خاص معنے اغلب اوراکثر طور پر مستعملات قرآنی میں سے ہیں تو انہی معنوں کو اس مقامِ بحث میں ترجیح ہوگی اوراگر قرآن شریف اوّل سے آخر تک اپنے کُل مقامات میں ایک ہی معنوں کو استعمال کرتاہے تو محل مبحوث فیہ میں بھی یہی قطعی فیصلہ ہوگا کہ جو معنے توفّی کے سارے قرآن شریف میں لئے گئے ہیں وہی معنے اس جگہ بھی مرادہیں کیونکہ یہ بالکل غیر ممکن اور بعید از قیاس ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے بلیغ اورفصیح کلام میں ایسے تنازع کی جگہ میں جو اس کے علم میں ایک معرکہ کی جگہ ہے ایسے شاذ اورمجہول الفاظ استعمال کرے جو اس کے تمام کلام میں ہرگز استعمال نہیں ہوئے۔اگر وہ ایسا کرے تو گویا وہ خلق اللہ کو آپ ورطۂ شبہات میں ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اورظاہر ہے کہ اس نے ہرگز ایسا نہیں کیا ہو گا یہ کیوں کر ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے قرآن کریم کے تیئیس۲۳ مقام میں تو ایک لفظ کے ایک ہی معنے مرادلیتا جاوے اور پھردو مقام میں جو زیاد ہ تر محتاج صفائی بیان کے تھے کچھ اورکا اورمراد لے کر آپ ہی خلق اللہ کو گمراہی میں ڈال دے۔
اب اے ناظرین !آپ پر واضح ہو کہ اس عاجز نے اول سے آ خرؔ تک تمام وہ الفاظ جن میں توفّی کا لفظ مختلف صیغوں میں آگیا ہے قرآن شریف میں غور سے دیکھے تو صاف طورسے کھل گیا کہ قرآن کریم میں علاوہ محل متنازعہ فیہ کے یہ لفظ تیئیس۲۳جگہ لکھا ہے اور ہر یک جگہ موت اورقبضِ روح کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے اورایک بھی ایسا مقام نہیں