عام اورخاص دونوں طورپر مسیح کا فوت ہوجانا بیان فرمایا ہے عام طورپرجیساکہ وہ فرماتا ہےوَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُؕ اَفَا۟يِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ ۱ یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) صرف ایک رسول ہے اور اسؔ سے پہلے ہریک رسول جو آیا وہ گذرگیا اورانتقال کرگیا اب کیا تم اس رسول کے مرنے یا قتل ہوجانیکی وجہ سے دین اسلام چھوڑدوگے ؟ اب دیکھو یہ آیت جو استدلالی طورپرپیش کی گئی ہے صریح دلالت کرتی ہے کہ ہر یک رسول کو موت پیش آتی رہی ہے خواہ وہ موت طبعی طورپر ہو یا قتل وغیرہ سے اور گذشتہ نبیوں میں سے کوئی ایسا نبی نہیں جو مرنے سے بچ گیا ہو۔سو اس جگہ ناظرین ببداہت سمجھ سکتے ہیں کہ اگر حضرت مسیح جو گذشتہ رسولوں میں سے ایک رسول ہیں اب تک مرے نہیں بلکہ زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے تو اس صورت میں مضمون اس آیت کا جو عام طورپرہر یک گذشتہ نبی کے فوت ہونے پر دلالت کررہا ہے صحیح نہیں ٹھہر سکتا بلکہ یہ استدلال ہی لغو اورقابلِ جرح ہوگا۔
پھردوسری آیت جو عام استدلال کے طریق سے مسیح ابن مریم کے فوت ہوجانے پر دلالت کرتی ہے یہ آیت ہےوَمَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا يَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوْا خٰلِدِيْنَ ۲ یعنی کسی نبی کا ہم نے ایسا جسم نہیں بنایا جوکھانے کامحتاج نہ ہو اوروہ سب مرگئے کوئی اُن میں سے باقی نہیں۔ ایساہی عام طورپر یہ بھی فرمایا
وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُـلْدَؕ اَفَا۟ئِن مِّتَّ فَهُمُ الْخٰـلِدُوْنَ كُلُّ نَفْسٍ ذَآٮِٕقَةُ الْمَوْتِ ۳پھرؔ تیسر ی آیت جو عام استدلال کے طریق سے مسیح کے فوت ہوجانے پر دلالت کرتی ہے یہ آیت ہے
وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْـًٔـا ۴سورۃ الحج الجزو ۱۷۔ یعنی اے بنی آدم ! تم دوگروہ ہو۔ایک وہ جو پِیرانہ سالی سے پہلے فوت ہوجاتے ہیں یعنی پِیر فرتوت ہوکر نہیں مرتے بلکہ پہلے ہی مرجا تے ہیں۔دو سراوہ گروہ جواس قدر بڈھے ہوجاتے ہیں جو ایک ارذل حالت زندگی کی جو قابل نفرت ہے اُن میں
۱ اٰل عمران: ۱۴۵ ۲ الانبیاء:۹ ۳ الانبیاء: ۳۵ ،۳۶ ۴ الحج:۶