جن کو ایسے ایسے الہام بھی ہوگئے کہ جو آیتیں خاص پیغمبروں کے حق میں تھیں وہ اُ مّتی لوگوں کے حق میں قرار دے دیں۔چنانچہ دودفعہ بعض وہ آیتیں جو صحابہ کبارکے حق میں قرآن کریم میں تھیں اس عاجز کی طرف اپنے خط میں لکھ کر بھیج دیں کہ آپ کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا ہے انہیں میں سے یہ آیات بھی ہیں (۱) قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰٮهَا ؂۱ (۲) اَنْتَ مَوْلٰٮنَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ؂۲ اوریہ عاجز کہ جو مولوی عبداللہ غزنوی مرحوم سے محبت اورحُسن ظن رکھتا ہے تو درحقیقت اس کی یہی وجہ ہے کہ اُن کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ یہ عاجز من جانب اللہ مامورہونے والا ہے اورانہوں نے کئی خط لکھے اوراپنے الہاماتِ متبرکہ ظاہرکئے اوربعض لوگوں کے پاس اس بارے میں بیان بھی کیا اورعالمِ کشف میں بھی اپنی یہ مراد ظاہرکی۔ اُن ؔ سوالوں کے جوابات جو متفرق طورپرلوگ پیش کرتے ہیں سوال۔ مسیح ابن مریم کافوت ہونا قرآن شریف سے کہاں ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ دونوں فقرے آیات کے یعنی رَافِعُکَ اِلَیَّ اور بَلْ رَّفَعَہٗ اللّٰہُ اِلَیْہِ دلالت کررہے ہیں کہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ایسا ہی یہ آیت کہ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰـكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ؂۳ اسی پر دلالت کررہی ہے کہ مسیح نہ مصلوب ہوا اورنہ مقتول ہوا۔ الجواب ۔ پس واضح ہو کہ خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائے جانے کے یہی معنے ہیں کہ فوت ہوجانا۔ خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ ارْجِعِىْ اِلٰى رَبِّكِ ۴؂ اوریہ کہنا کہ اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ ۵؂ ایک ہی معنے رکھتا ہے۔سوا اس کے جس وضاحت اورتفصیل اورتوضیح کے ساتھ قرآن شریف میں مسیح کے فوت ہوجانے کا ذکر ہے اس سے بڑھ کر متصوّر نہیں کیونکہ خداوند عزّوجلّ نے ۱؂ الشمس:۱۰ ۲؂ البقرہ:۲۸۷ ۳ ؂ النساء: ۱۵۸ ۴ ؂ الفجر:۲۹ ۵؂ اٰل عمران:۵۶