اُن کے بعض مکتوبات اس عاجز کے پاس موجود ہیں انشاء اللہ بوقت ضرورت شائع کئے جائیں گے۔
ابؔ مولوی عبد الرحمان صاحب براہ مہربانی بیان فرماویں کہ جبکہ سلف صالح کے بر خلاف قرآن شریف کے معنے کرنے سے انسان مُلحد ہو جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ عاجز بھی اُن کی نظر میں مُلحد ہے کہ خدائے تعالیٰ کے الہام سے بعض آیات کے معانی مخفی ظاہر کرتا ہے تو پھر مولوی عبداللہ صاحب مرحوم غزنوی کی نسبت جوؔ اُن کے مرشد ہیں کیا فتویٰ ہے؟
بقیہ حاشیہ : صاف ظاہر ہے کہ مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ سے ہرگز نہیں تھے اور قرآن شریف میں بھی کسی جگہ یہ ذکر نہیں کہ مسیح بیماروں کے چنگا کرنے یاپرندوں کے بنانے کے وقت دعا کرتاتھا بلکہ وہ اپنی روح کے ذریعہ سے جس کو روح القدس کے فیضان سے برکت بخشی گئی تھی ایسے ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا چنانچہ جس نے کبھی اپنی عمر میں غور سے انجیل پڑھیؔ ہوگی وہ ہمارے اس بیان کی بہ یقین تمام تصدیق کریگا اور قرآن شریف کی آیات بھی بآواز بلند یہی پکار رہی ہیں کہ مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اسکوطاقت بخشی گئی تھی اور خدائے تعالےٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہریک فرد بشر کی فطرت میں مودّع ہے مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔ چنانچہ اس بات کا تجزیہ اسی زمانہ میں ہو رہا ہے۔ مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہرِ عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہوجاتے تھے لیکن بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے اُس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہیں تھا۔
غرضؔ یہ اعتقادبالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اوراُن میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنادیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیرہوگیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہرحال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کاگوسالہ۔ فتدبّر ۔ فانہ نکتۃ جلیلۃ ما یلقّٰھا اِلّا ذوحظٍ عظیم۔ منہ