الہام ہوا قلنا یا نار کونی بردًا وَّ سلامًا۔مگر میں اس کے معنے نہ سمجھا پھر الہا م ہوا قلنا یا ؔ صبر کونی بردا و سلا ما تب میں سمجھ گیا کہ نار سے مراد اس جگہ صبر ہے اور پھر فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے الہام ہوا رب ادخلنی مد خل صدق و اخرجنی مخرج صدق اور اس سے مراد اصلی معنی نہیں تھے بلکہ یہ مراد تھی کہ مولوی صاحب کو ہستان ریاست کابل سےؔ پنجاب کے ملک میں بزیر سایہ سلطنت برطانیہ آجائیں گے۔اسی طرح انہوں نے اپنے الہامات میں کئی آیات فرقانی لکھی ہیں اور اُن کے اصلی معنے چھوڑ کر کوئی اور معنے مراد لئے ہیں۔
بقیہ حاشیہ : لیکن ؔ یہ عذر بالکل فضول ہے اور صر ف اس حالت میں ماننے کے لائق ہے کہ جب یہ اعتقاد رکھاجائے کہ ان پرندوں میں واقعی اورحقیقی حیات پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ صرف ظلّی اور مجازی اور جھوٹی حیات جو عمل الترب کے ذریعہ سے پیداہوسکتی ہے ایک جھوٹی جھلک کی طرح ان میں نمودار ہوجاتی تھی۔ پس اگر اتنی ہی بات ہے تو ہم اسکو پہلے سے تسلیم کر چکے ہیں ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ عمل الترب کے ذریعہ سے پھونک کی ہوا میں وہ قوت پیدا ہو جائے جو اس دُخان میں پیدا ہوتی ہے جس کی تحریک سے غبارہ اوپر کو چڑھتا ہے۔ صانع فطرت نے اس مخلوقات میں بہت کچھ خواص مخفی رکھے ہوئے ہیں۔ ایک شریک صفات باری ہونا ممکن نہیں اور کونسی صنعت ہے جو غیر ممکن ہے؟۔
اور اؔ گر یہ اعتقا د رکھاجائے کہ اُن پرندوں میں واقعی اور حقیقی حیات پیدا ہوجاتی تھی اورسچ مچ اُن میں ہڈیاں گوشت پوست خون وغیرہ اعضا بن کر جان پڑجاتی تھی تو اس صورت میں یہ بھی ماننا پڑیگا کہ اُن میں جاندار ہونے کے تمام لوازم پیدا ہوجاتے ہوں گے اور وہ کھانے کے بھی لائق ہوتے ہونگے اور اُن کی نسل بھی آج تک کروڑہا پرندے زمین پر موجود ہوں گے اور کسی بیماری سے یاشکاری کے ہاتھ سے مرتے ہونگے تو ایسا اعتقاد بلاشبہ شرک ہے۔ بہت لوگ اس وسوسہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اگر کسی نبی کے دعا کرنے سے کوئی مردہ زندہ ہوجائے یا کوئی جماد جانداربن جائے تو اس میں کونسا شرک ہے۔ ایسے لوگوں کو جاننا چاہیئے کہ اس جگہ دعا کا کچھ ذکر نہیں اوردعا قبول کرنا یا نہ کرنا اللہ جلّ شانُہ‘ کے اختیار میں ہوتا ہے اور دعاؔ پر جوفعل مترتب ہوتا ہے وہ فعل الٰہی ہوتا ہے نبی کا اس میں کچھ دخل نہیں ہوتااور نبی خواہ دعا کرنے کے بعدفوت ہوجائے نبی کے موجودہونے یا نہ ہونے کی اس میں کچھ حاجت نہیں ہوتی۔ غرض نبی کی طرف سے صرف دعا ہوتی ہے جو کبھی قبول اور کبھی ردّ بھی ہوجاتی ہے لیکن اس جگہ وہ صورت نہیں۔ اناجیل اربعہ کے دیکھنے سے