ٹھہر سکتی اور اگر اس کتاب میں مخفی طور پر وہ سب سامان موجود ہے جو ہر یک حالتِ زمانہ کے لئے درکار ہے تو اس صورت میں ہمیں ماننا پڑے گا کہ قرآن شریف بلاریب غیر محدود معارف پر مشتمل ہے اور ہر یک زمانہ کی ضروراتِ لاحقہ کاکامل طور پر متکفّلؔ ہے۔
اب یہ بھی یاد رہے کہ عادت اللہ ہر یک کا مل مُلہم کے ساتھ یہی رہی ہے کہ عجائباتِ مخفیہ فرقان اس پر ظاہر ہو تے رہے ہیں بلکہ بسا اوقات ایک ملہم کے دل پر قرآن شریف کی آیت الہام کے طوؔ ر پر القا ہو تی ہے اور اصل معنی سے پھیر کر کوئی اور مقصود اس سے ہو تا ہے۔جیسا کہ مولوی عبداللہ صاحب مرحوم غزنوی اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ مجھے ایک مرتبہ
بقیہ حاشیہ :اور ان صفات خاؔ صہ خدائے تعالےٰ میں سے ہے جو کسی حالت میں بشر کو مل نہیں سکتیں۔معجزہ کی حقیقت یہ ہے کہ خدائے تعالےٰ ایک امر خارق عادت یا ایک امر خیال اور گمان سے باہر اور امید سے بڑھکر ایک اپنے رسول کی عزت اور صداقت ظاہر کرنے کے لئے اور اس کے مخالفین کے عجز اورمغلوبیت جتلانے کی غرض سے اپنے ارادہ خاص سے یا اس رسول کی دعا اوردرخواست سے آپ ظاہر فرماتا ہے مگر ایسے طور سے جو اس کی صفات وحدانیت وتقدّس وکمال کے منافی ومغائر نہ ہو اور کسی دوسرے کی وکالت یاکارسازی کا اس میں کچھ دخل نہ ہو۔
اب ہر یک دانشمند سوچ سکتا ہے کہ یہ صورت ہرگز معجزہ کی صورت نہیں کہ خدائے تعالےٰ دائمی طورپر ایک شخص کو اجازت اور اذن دیدے کہ تو مٹی کے پرندے بناکر پھونک مارا کر وہ حقیقت میں جانوؔ ر بن جایا کریں گے اور ان میں گوشت او رہڈی اور خون اور تمام اعضا جانوروں کے بن جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالےٰ پرندو ں کے بنانے میں اپنی خالقیت کا کسی کو وکیل ٹھہرا سکتا ہے تو تمام امور خالقیت میں وکالتِ تامّہ کاعہدہ بھی کسی کودے سکتا ہے۔ اس صورت میں خدائے تعالیٰ کی صفات میں شریک ہوناجائز ہوگاگو اس کے حکم اور اذن سے ہی سہی اورنیز ایسے خالقوں کے سامنے اور فتشابہ الخلق علیہم کی مجبور ی سے خالق حقیقی کی معرفت مشتبہ ہوجائے گی۔ غرض یہ اعجاز کی صورت نہیں یہ تو خدائی کا حصہ دار بنانا ہے۔
بعض دانشمند شرک سے بچنے کے لئے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح جو پرندے بناتے تھے وہ بہت دیر تک جیتے نہیں تھے ان کی عمر چھوٹی ہوتی تھی تھوڑی مسافت تک پرواز کر کے پھر گرکرمرجاتے تھے۔