اگردوسرے معنی بھی ہوں تو ان دونو ں معنوؔ ں میں کوئی تناقض پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہدایتِ قرآنی میں کوئی نقص عائد حال ہو تا ہے بلکہ ایک نور کے ساتھ دوسرا نور مل کر عظمت فرقانی کی روشنی نمایاں طور پردکھائی دیتی ہے اور چونکہ زمانہ غیر محدود انقلابات کی وجہ سے غیر محدود خیالات کا بالطبع محرک ہے لہذ ا اسؔ کا نئے پیرایہ میں ہوکر جلوہ گر ہونا یا نئے نئے علوم کو بمنصۂ ظہور لانا نئے نئے بد عات اور مُحدثات کو دکھلا نا ایک ضروری امر اس کے لئے پڑاہوا ہے۔اب اس حالت میں ایسی کتاب جو خاتم الکتب ہو نے کا دعوٰی کر تی ہے اگر زمانہ کے ہر یک رنگ کے ساتھ مناسب حال اس کا تدارک نہؔ کرے تو وہ ہرگز خاتم الکتب نہیں
بقیہ حاشیہ : اب دیکھو خدا ئے تعالیٰ صاف صاف طور پر فرما رہا ہے کہ بجُز میرے کوئی اور خالق نہیں بلکہ ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے کہ تمام جہان مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتا۔ اورصاف فرماتا ہے کہ کوئی شخص موت اورحیات اورضرر اور نفع کا مالک نہیں ہوسکتا۔ اس جگہ ظاہر ہے کہ اگر کسی مخلوق کو موت اور حیات کا مالک بنادینااور اپنی صفات میں شریک کر دینا اس کی عادت میں داخل ہوتا تو وہ بطور استثناء ایسے لوگوں کو ضرور باہر رکھ لیتا اور ایسی اعلیٰ توحید کی ہمیں ہرگز تعلیم نہ دیتا۔ اگر یہ وسواس دل میں گذرے کہ پھر اللہ جلَّشانہ‘ نے مسیح ابن مریم کی نسبت اس قصہ میں جہاں پرندہؔ بنانے کا ذکر ہے تخلقکالفظ کیوں استعمال کیا جس کے بظاہریہ معنے ہیں کہ تُو پیدا کرتاہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ حضرت عیسیٰ کو خا لق قرار دینا بطور استعارہ ہے جیسا کہ اس دوسری آیت میں فرمایا ہے فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ ۱ بلا شبہ حقیقی اور سچا خالق خدائے تعالےٰ ہے۔ اور جولوگ مٹی یالکڑی کے کھلونے بناتے ہیں وہ بھی خالق ہیں مگر جھوٹے خالق جن کے فعل کی اصلیت کچھ بھی نہیں۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ کیوں بطور معجزہ جائز نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام اذن اورارادہ الٰہی سے حقیقت میں پرندے بنا لیتے ہوں اور وہ پرندے ان کی اعجازی پھونک سے پرواز کر جاتے ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے کسی شخص کو موت اور حیات اور ضرر اور نفع کا مالک نہیں بناتا۔ نبی لوگ دعا اور تضرع سے معجزہ مانگتے ہیں۔ معجزہ نمائی کی ایسی قدرت نہیں رکھتے جیسا کہ انسا ن کوہاتھ پَیر ہلانے کی قدرت ہوتی ہے۔ غرض معجزہ کی حقیقت اور مرتبہ سے یہ امر بالاتر
۱ المؤمنون:۱۵ ؕ