کے زمانہ بعثت تک مدّت گزری تھی وہ تمام مدت سورۃ والعصر کے اعداد حروف میں بحساب قمری مندرج ہے یعنی چار ہزار سات سو چالیس ۴۷۴۰۔ اب بتلاؤکہؔ یہ دقائق قرآنیہ جس میں قر آن کریم کا اعجاز نمایا ں ہے کس تفسیر میں لکھے ہیں۔ ایسا ہی خدائے تعالیٰ نے میرے پر یہ نکتہ معارف قرآنیہ کا ظاہر کیاکہ اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِىْ لَيْلَةِ الْقَدْرِۚ ۱؂ کے صرف یہی معنے نہیں کہ ایک بابرکت رات ہے جس میں قرآن شریف اُترا بلکہ باوجودا ؔ ن معنوں کے جو بجائے خود صحیح ہیں اس آیت کے بطن میں دوسرے معنے بھی ہیں جو رسالہ فتح اسلام میں درج کئے گئے ہیں۔اب فرمائیے کہ یہ تمام معارفِ حقہ کس تفسیر میں موجود ہیں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ قرآن شریف کے ایک معنے کے ساتھ بقیہ حاشیہ : چند منٹ میں مرجاتے تھے کیونکہ بذریعہ عملؔ التِّرب روح کی گرمی اور زندگی صرف عارضی طور پران میں پیدا ہوجاتی تھی مگر جن کوہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ کیا وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور یہ جو میں نے مسمریزمی طریق کا عمل التِّرب نام رکھا جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے یہ الہامی نام ہے اور خدا ئے تعالےٰ نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ عمل الترب ہے اوراس عمل کے عجائبات کی نسبت یہ الہام ہؤا ھٰذا ھو الترب الذی لایعلمون یعنی یہ وہ عمل الترب ہے جس کی اصل حقیقت کی زمانہ حال کے لوگوں کوکچھ خبر نہیں۔ ورنہ خدائے تعالیٰ اپنی ہر یک صفت میں واحد لاشریک ہے اپنی صفات الوہیت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ فرقان کریم کی آیات بیّنات میں اس قدر اس مضمون کی تاکید پائی جاتی ہے جوؔ کسی پر مخفی نہیں جیسا کہ وہ عزّا سمہ‘ فرماتا ہے الَّذِىْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِىْ الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا‏ وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخْلُقُوْنَ شَيْـًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ وَلَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَّلَا يَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّلَا حَيٰوةً وَّلَا نُشُوْرًا ۲؂ سورۃالفرقان الجزو۱۸یعنی خدا وہ خدا ہے جو تمام زمین وآسمان کا اکیلامالک ہے کوئی اس کا حصہ دار نہیں۔ اس کا کوئی بیٹا نہیں اور نہ اس کے ملک میں کوئی اُس کا شریک اور اسی نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور پھر ایک حد تک اس کے جسم اور اس کی طاقتوں اوراس کی عمر کو محدود کر دیا اور مشرکوں نے بجز اس خدائے حقیقی کے اَور اَور ایسے ایسے خدا مقررکر رکھے ہیں جو کچھ بھی پیداؔ نہیں کرسکتے بلکہ آپ پیداشدہ اور مخلوق ہیں اپنے ضرر اور نفع کے مالک نہیں ہیں اورنہ موت اور زندگی اورجی اُٹھنے کے مالک ہیں ۱؂ القدر ۲ ۲؂ الفرقان: ۳، ۴‏