برہمو یا بدھ مذہب والا یا آریہ یا کسی اور رنگ کا فلسفی کو ئی ایسی الٰہی صداقت نکال نہیں سکتا جو ؔ قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہ ہو۔قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور جس طرح صحیفۂ فطرت کے عجائب و غرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید درجدید پیدا ہوتے جاتے ہیں یہی حال ان صحفِ مطہرّہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو اورمیَں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں کہ قرآن شریف کے عجائبات اکثر بذریعہ الہام میرے پر کھلتے ر ہتے ہیںؔ اور اکثر ایسے ہو تے ہیں کہ تفسیروں میں اُن کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔مثلاًیہ جو اس عاجز پر کھلا ہے کہ ابتدائے خلقتِ آدم سے جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
بقیہ حاشیہ : عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کومکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا توخدا تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ لیکن مجھے وہ روحانی طریق پسند ہے جس پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےؔ قدم مارا ہے اورحضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی فطرت میں مرکوزتھے باذن وحکم الٰہی اختیار کیاتھا ورنہ دراصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔ واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت بُراخاصہ یہ ہے کہ جوشخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اورجسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی ودماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے وہ اپنی اُن روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دورکرتی ہیں بہت ضعیف اور نکماہوجاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کاجو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ گوحضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت اورتوحید اور دینیؔ استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں انکی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کارہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ ان جسمانی امور کی طرف توجہ نہیں فرمائی اور تمام زور اپنی روح کادلوں میں ہدایت پیدا ہونے کیلئے ڈالا اسی وجہ سے تکمیل نفوس میں سب سے بڑھ کر رہے اور ہزارہا بندگانِ خدا کو کمال کے درجہ تک پہنچادیا اوراصلاح خلق اوراندرونی تبدیلیوں میں وہ یدِ بیضا دکھلایا کہ جس کی ابتدائے دنیا سے آج تک نظیر نہیں پائی جاتی۔ حضرت مسیح کے عمل التِّرب سے وہ مردے جو زندہ ہوتے تھے یعنی وہ قریب المرگ آدمی جو گویانئے سرے زندہ ہوجاتے تھے وہ بلاتوقف