اپنے اندر رکھتا ہے۔ جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتا و ہؔ علمِ قرآن سے سخت بے نصیب ہے ومن لم یؤمن بذالک الاعجاز فواللہ ما قدرالقر آن حق قدرہ وما عرف اللّٰہ حق معرفتہ وماؔ وقر الرسول حق توقیرہ۔ اے بندگانِ خدا !یقینایاد رکھو کہ قرآن شریف میں غیر محدود معارف و حقا ئق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے جس نے ہرایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے اور ہر یک زمانہ اپنی نئی حا لت کےؔ ساتھ جو کچھ شبہات پیش کر تا ہے یا جس قسم کے اعلیٰ معارف کا دعویٰ کرتا ہے اس کی پوری مدافعت اور پورا الزام اور پورا پورا مقا بلہ قر آن شریف میں موجود ہے کو ئی شخص بقیہ حاشیہ : ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا اورنہ درحقیقت ان کا زندہ ہوجانا ثابت ہوتا ہے۔ اس جگہ یہ بھی جاننا چاہیئے کہ سلبِ امراض کرنا یا اپنی روح کی گرمی جماد میں ڈال دینا درحقیقت یہ سب عمل التِّرب کی شاخیں ہیں۔ ہر یک زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس روحانی عمل کے ذریعہ سے سلبِ امراض کرتے رہے ہیں اور مفلوج ، مبروص، مدقوق وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہے ہیں۔جن لوگوں کی معلومات وسیعؔ ہیں وہ میرے اس بیان پر شہادت دے سکتے ہیں کہ بعض فقراء نقشبندی وسُہر وردی وغیرہ نے بھی ان مشقوں کی طرف بہت توجہ کی تھی اور بعض ان میں یہاں تک مشّاق گذرے ہیں کہ صدہا بیماروں کو اپنے یمین ویسا ر میں بٹھا کر صرف نظرسے اچھا کر دیتے تھے اور محی الدین ابن عربی صاحب کو بھی اس میں خاص درجہ کی مشق تھی۔ اولیاء اور اہل سلوک کی تواریخ اور سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ایک ثبوت بنانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان مشغلوں میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اسؔ عمل التِّرب میں کمال رکھتے تھے گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے۔ کیونکہ الیسع کی لاش نے بھی معجزہ دکھلایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہوگیا مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہرگز زندہ نہ ہوسکیں۔ یعنی وہ دو چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔ بہرحال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں۔مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں۔ جیسا کہ