ہوسکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہریک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یوروپین یا امریکن یا کسی اَورملک کا ہو ملزم و ساکت و لاجواب کرسکتے ہیں۔وہ غیرمحدود معار ؔ ف و حقائق و علوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اورہر یک زمانہ کے خیالات کو مقابلہ کرنے کے لئےُ مسلّح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں اگر قرآ ن شریف اپنے حقائق و دقائق کے لحاظ سے ایک محدود چیزہوتی تو ہرگز و ہؔ معجزہ تامّہ نہیں ٹھہر سکتا تھا ۔فقط بلاغت و فصاحت ایسا امر نہیں ہے جس کی اعجازی کیفیت ہریک خواندہ ناخواندہ کو معلوم ہوجائے کھلا کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف و دقائق
بقیہ حاشیہ : سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں کیونکہ عمل التِّرب میں جس کو زمانۂ حال میں مسمریزم کہتے ہیں ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کردکھاتے ہیں۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی گرمی ایک جماد پر جو بالکل بے جان ہے ڈال سکتی ہے۔ تب جماد سے وہ بعض حرکات صادر ہوتی ہیں جو زندوں سے صادر ہؤا کرتی ہیں۔ راقم رسالہ ہذا نے اس علم کے بعض مشق کرنے والوں کو دیکھا ہے جو انہوں نے ایک لکڑی کی تپائی پر ہاتھ رکھ کر ایسا اپنی حیوانی روحؔ سے اُسے گرم کیا کہ اس نے چارپایوں کی طرح حرکت کرنا شروع کر دیا اور کتنے آدمی گھوڑے کی طرح اس پر سوا ر ہوئے اور اسکی تیزی اور حرکت میں کچھ کمی نہ ہوئی۔ سو یقینی طور پر خیال کیاجاتا ہے کہ اگر ایک شخص اس فن میں کامل مشق رکھنے والا مٹی کا ایک پرند بنا کر اس کو پرواز کرتا ہؤا بھی دکھا دے تو کچھ بعید نہیں کیونکہ کچھ اندازہ نہیں کیا گیا کہ اس فن کے کما ل کی کہاں تک انتہاء ہے۔ اور جبکہ ہم بچشم خود دیکھتے ہیں کہ اس فن کے ذریعہ سے ایک جماد میں حرکت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ جانداروں کی طرح چلنے لگتا ہے تو پھر اگر اس میں پرواز بھی ہو تو بعید کیا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ ایسا جانور جو مٹی یالکڑی وغیرہ سے بنایا جاوے اور عمل التِّرب سے اپنی روح کی گرمی اس کو پہنچائی جاؔ ئے وہ درحقیقت زندہ نہیں ہوتا بلکہ بدستور بے جان اور جماد ہوتا ہے صرف عامل کے روح کی گرمی بارُوت۱ کی طرح اُس کو جنبش میں لاتی ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے
۱ اسے آجکل ’’بارود‘‘ لکھا جاتا ہے (ناشر)