اوربے اصل بات ہے صحابہ کاہرگز اس پر اجماع نہیں۔ بھلا اگر ہے تو کم سے کم تین سو یا چارسو صحابہ کا نام لیجئے جو اس بارہ میں اپنی شہادت اداکرگئے ہیں ورنہ ایک یا دوآدمی کے بیان کانام اجماع رکھنا سخت بددیاؔ نتی ہے۔ماسوااس کے یہ بھی ان حضرات کی سراسر غلطی ہے کہ قرآن کریم کے معانی کو بزمانہ گذشتہ محدود و مقید سمجھتے ہیں۔اگر اس خیال کو تسلیم کرلیا جاوے توپھر قرآن شریف معجزہ نہیں رہ سکتا اوراگر ہو بھی تو شاید ان عربیوں کے لئے جو بلاغت شناسی کا مذاق رکھتے ہیں۔
جا ؔ ننا چاہیئے کہ کھلا کھلا اعجازقرآن شریف کا جو ہرایک قوم اور ہریک اہل زبان پر روشن
بقیہ حاشیہ : نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظا ہر ہے کہ بڑھئی کاکام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہوجاتی ہے اور جیسے انسان میں قوےٰ موجود ہوں انہیں کے موافق اعجاز کے طور پر بھی مدد ملتی ہے جیسے ہمارے سیّد ومولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روحاؔ نی قویٰ جو دقائق اور معارف تک پہنچنے میں نہایت تیز وقوی تھے سو انہی کے موافق قرآن شریف کا معجزہ دیا گیاجو جامع جمیع دقائق ومعارف الٰہیہ ہے۔ پس اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیئے کہ حضرت مسیح نے اپنے داد ا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید بھی نہیں کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھاجاتا ہے کہ اکثر صنّاع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دُم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سُنا ہے کہ بعض چڑیاں کَلْ کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں اور یوروپ اور امریکہ کے ملکوں میں بکثرت ہیں اور ہرسال نئے نئے نکلتے آتے ہیں۔ اور چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے اس لئے ان آیات کے روحانی طور پر معنی بھی کرسکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ اُمّی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰ نے اپنا رفیق بنایا گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا پھر ہدایت کی روح اُن میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔
ماسوؔ ا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل التِّرب یعنی مسمریزمی طریق