اوراگر یہ کہا جاوے کہ قرآن شریف کے ایسے معنے کرنا کہ جوؔ پہلوں سے منقول نہیں ہیں الحاد ہے جیسے مولوی عبدالرحمان صاحبزادہ مولوی محمد لکھو والہ نے اس عاجز کی نسبت لکھا ہے تو میں کہتا ہوں کہ میں نے کوئی ایسے اجنبی معنے نہیں کئے جو مخالف اُن معنوں کے ہوں جن پر صحابہ کرام اورتابعین اورتبع تابعین کا اجما ع ہوؔ اکثر صحابہ مسیح کا فوت ہوجانا مانتے رہے ، دجّال معہود کا فوت ہوجانا مانتے رہے پھر مخالفانہ اجماع کہاں سے ثابت ہو قرآن شریف میں تیس کے قریب ایسی شہادتیں ہیں جو مسیح ابن مریم کے فوت ہونے پر دلالت بیّن کررہی ہیں غرض یہ بات کہ مسیح جسم خاکی کے سا تھؔ آسمان پر چڑھ گیا اوراسی جسم کے ساتھ اُترے گا نہایت لغو بقیہ حاشیہ: جن میں انسان کی تدبیراور عقل کو کچھ دخل نہیں ہوتا جیسے شق القمر جو ہمارے سیّد ومولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا اور خدائے تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے ایک راستباز اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اس کو دکھایاتھا۔ (۲) دوسرے عقلی معجزات ہیں جو اس خارق عادت عقل کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو الہام الٰہی سے ملتی ہے جیسے حضرؔ ت سلیمان کا وہ معجزہ جو صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِيْرَ ۱؂ ہے جس کو دیکھ کر بلقیس کو ایمان نصیب ہوا۔ اب جانناچاہیئے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ اُن دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور در اصل بے سود اور عوام کر فریفتہ کرنے والے تھے۔ وہ لوگ جو فرعون کے وقت میں مصر میں ایسے ایسے کام کرتے تھے جو سانپ بنا کر دکھلادیتے تھے اور کئی قسم کے جانور طیارکر کے ان کو زندہ جانوروں کی طرح چلادیتے تھے۔ وہ حضرت مسیح کے وقت میں عام طور پر یہودیوں کے ملکوں میں پھیل گئے تھے اور یہودیوں نے اُن کے بہت سے ساحرؔ انہ کام سیکھ لئے تھے جیسا کہ قرآن کریم بھی اس بات کا شاہد ہے۔ سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدائے تعالےٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یاکسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پَیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس ۲۲ برس کی مدّت تک ۱؂ النمل:۴۵