نہیں بلکہ پندرہ ہوں گے تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ اس حدیث کے مضمو ن کو حقیقت پر حمل کر بیٹھیں اورناحق بیجا ضد کرنے سے مخالفوں سے ہنسی ؔ کرائیں۔ہمارے لئے قرآن کی تعلیم سے یہ راہ کھلی ہے کہ ہم اس حدیث کو متشابہات میں داخل کریں اورفتنہ سے اپنے تئیں بچاویں لیکن اگر ہم علم میں ایسے راسخ کئے جائیں جو الہامی طورپر ہمیں وہ معقولی راہ دکھلائی جاوے جس سے لوگ مطمئن ہوؔ سکتے ہیں تو پھر کچھ ضرورت نہیں کہ ہم ایسی آیت یا حدیث کو متشابہات میں داخل رکھیں بلکہ اُن معقولی معنوں کو جو الہام کے ذریعہ سے ظاہر ہوئے ہیں شکر کے ساتھ ہم قبول کرلیں گے۔
بقیہ حاشیہ: کی طرح ہر جگہ حاضر ناظر ہو اور ظاہر ہے کہ اگر خدائی کی صفتیں بھی بندوں میں تقسیم ہوسکتی ہیں تو پھر خدائے تعالےٰ کا وحدہ‘ لاشریک ہونا باطل ہے۔ جس قدر دنیا میں مخلوق پرست ہیں وہ بھی یہ تو نہیں کہتے کہ ہمارے معبود خداہیں بلکہ ان موحدوں کی طرح ان کا بھی درحقیقت یہی قول ہے کہ ہمارے معبودوں کو خدائے تعالیٰ نے خدائی کی طاقتیں دے رکھی ہیں۔ ربّ اعلیٰ وبرتر تو وہی ہے اور یہ صرف چھوٹے چھوٹے خدا ہیں۔ تعجب کہ یہ لوگ یا رسول اللہ کہنا شرک کا کلمہ سمجھ کر منعؔ کرتے ہیں لیکن مریم کے ایک عاجز بیٹے کو خدائی کا حصہ دار بنا رہے ہیں۔ بھائیو! آپ لوگوں کا دراصل یہی مذہب ہے کہ خدائی بھی مخلوق میں تقسیم ہو سکتی ہے اور خدائے تعالیٰ جس کو چاہتاہے اپنی صفت خالقیت ورازقیت وعا لمیت وقادریت وغیرہ میں ہمیشہ کے لئے شریک کر دیتا ہے تو پھر آپ لوگوں نے اپنے بدعتی بھائیوں سے اس قدر جنگ وجدل کیوں شروع کر رکھی ہے وہ بیچارے بھی تو اپنے اولیاء کو خدا کر کے نہیں مانتے صرف یہی کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے اپنے اذن اور ارادہ سے کچھ کچھ خدائی طاقتیں انہیں دے رکھی ہیں اور انہیں طاقتوں کی وجہ سے جو باذن الٰہی انکو حاصل ہیں وہ کسی کو بیٹا دیتے ہیں اور کسی کو بیٹی۔ اور ہر جگہ حاضر وناظر ہیں۔ نذریں نیاز یں لیتے ہیں۔اور مرادیں دیتے ہیں۔ ابؔ اگر کوئی طالبِ حق یہ سوال کرے کہ اگر ایسے عقائد سراسر باطل اور مشرکانہ خیالات ہیں تو ان آیات فرقانیہ کے صحیح معنے کیا ہیں جن میں لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم مٹی کے پرندے بناکر پُھونک اُن میں مارتا تھا تو وہ باذن الٰہی پرندے ہوجاتے تھے۔
سو واضح ہو کہ انبیاء کے معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) ایک وہ جو محض سماوی امورہوتے ہیں