حوالہ بخداکردینا چاہیئے۔اب دیکھو کہ یہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی کامل تعلیم ہے کہ اُسی کی برکت سے ہم ہزارہا ایسے جھگڑوں سے نجات پاسکتے ہیں جو قصصِ ماضیہ یا پیشگوئیوں کی نسبت اس زمانہ میں پیداہورہے ہیں کیونکہ ہر یک اعتراض خلاف عقلؔ معنے کو حقیقت پر حمل کرنے سے پیداہوتا ہے۔ پس جبکہ ہم نے اس ضد کو ہی چھوڑ دیا اوراپنے مولیٰ کی ہدایت کے موافق تمام متشابہات میں جن کا سمجھنا عقل پر مشتبہ رہتا ہے یہی اصول مقرر کر رکھا کہ اُن پر اجمالی طورپر ایمان لاویں اوراُن کی اصل حقیقت حوالہ بخدا کریں تو پھرؔ اعتراض کے لئے کوئی بنیاد پیدانہیں ہو سکتی مثلًا ایک صحیح حدیث میں یہ لکھا ہو کہ اگر دس اور دس کو جمع کریں تو وہ بیس ۲۰
بقیہ حاشیہ:
تو اس سے اس کی خدائی باطل ہوتی ہے اور موحد صاحب کا یہ عذر کہ ہم ایسا اعتقاد نہیں رکھتے کہ اپنی ذاتی طاقت سے حضرت عیسیٰ خالق طیور تھے بلکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ یہ طاقت خدا ئے تعالیٰ نے اپنے اذن اور ارادہ سے اُن کو دے رکھی تھی اور اپنی مرضی سے ان کو اپنی خالقیت کا حصہ دار بنا دیاتھا اور یہ اسکو اختیار ہے کہ جس کو چاہے اپنا مثیل بنا دیو ے قادر مطلق جو ہوا۔ یہ سراسر مشرکانہ باتیں ہیں اور کفر سے بدتر۔اس موحدکو یہ بھی کہا گیا کہ کیا تم اب شناخت کر سکتے ہو کہ ان پرندوں میں سے کونسے ایسے پرندے ہیں جو خدائے اتعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں اورکون سے ایسے پرندے ہیں جو اُن پرندوں کی نسلؔ ہیں جن کے حضرت عیسیٰ خالق ہیں؟تو اس نے اپنے ساکت رہنے سے یہی جواب دیا کہ میں شناخت نہیں کر سکتا۔
اب واضح رہے کہ اس زمانہ کے بعض موحدین کا یہ اعتقاد کہ پرندوں کے نوع میں سے کچھ تو خدائے تعالےٰ کی مخلوق اور کچھ حضرت عیسیٰ کی مخلوق ہے۔ سراسر فاسد اور مشرکانہ خیال ہے اور ایسا خیال رکھنے والا بلا شبہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اور یہ عذر کہ ہم حضرت عیسیٰ کو خدا تو نہیں مانتے بلکہ یہ مانتے ہیں کہ خدا ئے تعالےٰ نے بعض اپنی خدائی کی صفتیں انکو عطا کر دی تھیں نہایت مکروہ اور باطل عذر ہے۔ کیونکہ اگرخدائے تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے اپنی خدائی کی صفتیں بندوں کو دے سکتا ہے تو بلاشبہ وہ اپنی ساری صفتیں خدائی کی ایک بندے کودے کر پور اخدابنا سکتاہے۔ پس اس صورتؔ میں مخلوق پرستوں کے کل مذاہب سچے ٹھہرجائیں گے۔ اگرخداتعالیٰ کسی بشرکواپنے اذن اور ارادہ سے خالقیت کی صفت عطا کر سکتا ہے تو پھر وہ اس طرح کسی کو اذن اور ارادہ سے اپنی طرح عالم الغیب بھی بنا سکتا ہے اور اس کو ایسی قوت بخش سکتا ہے جو خدائے تعالے