اس عذر کا جواب یہ ہے کہ اس عاجز کی طرف سے بھی یہ دعویٰ نہیں ہے کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی خاتمہ ہے اورآئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزا ر سےؔ بھی زیادہ مسیح آسکتا ہے اورممکن ہے کہ ظاہری جلال واقبال کے ساتھ بھی آوے اورممکن ہے کہ اوّل وہ دمشق میں ہی نازل ہو۔ مگر اے میرے دوست مجھے اس بات کے ماننے اور قبول کرنے سے معذور تصوّر فرمائیے کہ وہی مسیح ابن مریم جو فوت ہوچکا ہے اپنے خاکی جسم کے ساتھ پھر آسمان سے اُترے گا۔اسلام اگر چہ خدائے تعالیٰ کو قادرمطلق بیان فرماتا ہے اورفرمودۂ خدااوررسول کو عقل پر فوقیت دیتا ہے مگر پھربھی وہ عقل کو معطل اوربے کار ٹھہرانانہیں چاہتا اوراگر صاف اورصریح طورپر کوئی امر خلاف عقل کسی الہامی کتاب میں واقع ہو اور ہم اس کے چاروں طرف نظر ڈال کر اس حقیقت تک پہنچ جائیں کہ دراصل یہ امر خلاف عقل ہے برتراز عقل نہیں تو ہمیں شریعت اورکتاب الٰہی ہرگز اجازت نہیں دیتی کہ ہم اس امر غیر معقول کو حقیقت پر حمل کر بیٹھیں بلکہ قرآن شریف میں ہمیں صاف تاکید فرمائی گئی ہے کہ آیات متشابہات یعنی جن کا سمجھنا عقل پر مشتبہ رہے اُن کے ظاہری معانی پر ہرگز زورنہیں دینا چاہیئے کہ درحقیقت یہی مطلب اورمراد خدائے تعالیٰ کی ہے۔* بلکہ اس پر ایما ن لاناؔ چاہیئے اور اس کی اصل حقیقت کو
*حاشیہ: بعض لوگ موحدین کے فرقہ میں سے بحوالہ آیات قرآنی یہ اعتقاد رکھتےؔ ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم انواع واقسام کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر زندہ کر دیا کرتے تھے۔ چنانچہ اسی بناء پر اس عاجز پر اعتراض کیا ہے کہ جس حالت میں مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے توپھر آپ بھی کوئی مٹی کا پرندہ بناکر پھر اس کو زندہ کر کے دکھلائیے۔ کیونکہ جس حالت میں حضرت مسیح کے کروڑہا پرندے بنائے ہوئے ابتک موجود ہیں جو ہر طرف پرواز کرتے نظر آتے ہیں تو پھر مثیل مسیح بھی کسی پرندہ کا خالق ہونا چاہیئے۔
ان تمام اوہام باطلہ کا جواب یہ ہے کہ وہ آیات جن میں ایسا لکھا ہے متشابہات میں سے ہیں اور ان کے یہ معنے کرنا کہ گویا خداتعالیٰ نے اپنے ارادہ اور اذن سے حضرت عیسیٰ کو صفات خالقیت میں شریک کر رکھا تھا صریح الحاد اور سخت بے ایمانی ہے کیونکہ اگر خدائے تعالےٰ اپنی ؔ صفات خاصۂ الوہیت بھی دوسروں کو دے سکتا ہے