اب مجھے مولوی صاحب کے اس بیان پر کہ اس عاجز کے مثیلِ مسیح ماننے سے صحیح بخاری و صحیح مسلم بے کار ہوجائیں گی دینی عقائد میں ابتری پڑجائے گی سخت تعجب ہے کیونکہ میں نے اَب اِن رسالوں میں کوئی نئی بات تو نہیں لکھی۔یہ تو وہی پُرانی باتیں ہیں جو مَیں اس سے پہلے براہین احمدیہ میں لکھ چکا ہوں جن کی نسبت مولوی صاحب موصوف اپنے ریویو کے معرض بیان میں سکوت اختیارکرکے اس عاجز کی صداقت دعویٰ کی نسبت شہادت دے چکے ہیں۔بلکہ امکانی طورمثیل مسیح ہونا اس عاجز کا اپنے صریح بیان سے تسلیم کر چکے ہیں۔ہاں اس رسالہ میں مَیں نے خدائے تعالیٰ سے علم قطعی و یقینی پاکر براہین احمدیہ کے مضمون سے اس قدر زیادہ لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم مثالی اورظلّی وجود کے ساتھ آئے گا نہ وہی اصلی مسیح۔سو میں نے اجماعی عقیدہ کی (اگر اجماع فرض کیا جائے) ایک تفسیر کی ہے نہ اس کے برخلاف کچھ کہا ہے اور مولوی صاحب کو معلوم ہو گا کہ برخلاف اجماع صحابہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے دونوں ٹکڑوں کی نسبت یہی رائے ظاہر کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جسم کے ساتھ نہ ؔ بیت المقدس میں گئے نہ آسمان پر بلکہ وہ ایک رؤیا صالحہ تھی۔ اب ظاہر ہے کہ عائشہ صدیقہ کا یہ قول بخاری اورمسلم کا کچھ خلل انداز نہیں ہوا اورنہ صحاح سِتّہ کو اس نے نکما اوربے کار کردیا ۔تو پھر اس عاجز کے اس دعویٰ اوراس الہام سے صحاح سِتّہ کیوں کر نکمّی اوربے کارہوجائیں گی؟ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان پرجانا کہاں ایسا ثابت ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سو اے میرے عزیز بھائی اس مقام میں تامّل کر اورجلدی نہ کر
تامّل کناں درخطا و صواب
بہ از ژاژ خایانِ حاضر جواب
اور اگر مولوی صاحب یہ عذر پیش کریں کہ ہم نے اگرچہ اپنے ریویو میں امکانی طورپر مثیل مسیح ہونا آپ کا مان لیا ہے اورایسا ہی ظلّی اورروحانی طورپر مسیح موعود ہونا بھی مان لیا لیکن ہم نے یہ کب مانا ہے کہ آپ بہمہ وجوہ ان پیشگوئیوں کے مصداق کامل ہیں جو مسیح ابن مریم کے بارہ میں صحاح میں موجود ہیں ۔