جو اس کے رسول کی نہیں کی گئیں۔اوروہ عظمت اس کو دی جائے جو اس کے رسول کو نہیں دی گئی۔
اوراگر یہ کہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اُمتی کر کے کہاں پکارا گیا ہے تو میں کہتا ہوں کہ صحیح بخاری کی وہ حدیث دیکھو جس میں اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ موجود ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ منکم کے خطاب کے مخاطب اُمتی لوگ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے دنیا کے اخیر تک ہوتے رہیں گے۔اب ظاہر ہے کہ جب مخاطب صرف اُمّتی لوگ ہیں اوریہ اُمّتیوں کو خوشخبری دی گئی کہ ابن مریم جو آنیوالا ہے وہ تم میں سے ہی ہو گا اور تم میں سے ہی پیداہوگا تو دوسرے لفظوں میں اس فقرے کے یہی معنے ہوئے کہ وہ ابن مریم جو آنے والا ہے کوئی نبی نہیں ہوگا بلکہ فقط اُمتی لوگوں میں سےؔ ایک شخص ہو گا۔
اب سوچنا چاہئے کہ اس سے بڑھ کر اس بات کے لئے اورکیا قرینہ ہو گا کہ ابن مریم سے اس جگہ وہ نبی مراد نہیں ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی کیونکہ نبوّت ایک عطاء غیرمجذوذ ہے اورنبی کا اس عطا سے محروم و بے نصیب کیا جانا ہرگز جائز نہیں اور اگر فرض کر لیں کہ وہ نبی ہونے کی حالت میں ہی آئیں گے اوربحیثیت نبوّت نزول فرمائیں گے توختم نبوت اس کا مانع ہے۔سو یہ قرینہ ایک بڑا بھاری قرینہ ہے بشرطیکہ کسی کے دل و دماغ میں خداداد تقویٰ و فہم موجود ہو۔
میرے دوست مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب اپنے ایک خط میں مجھے لکھتے ہیں کہ اگرآپ کا مثیل موعود ہونا مان لیاجائے تو پھر بخاری و مسلم و دیگر صحاح نکمی و بے کار ہوجائیں گی اور ایک سخت تفرقہ اُمہات مسائل دین میں پڑے گا۔سو اوّل میں ظاہرکرنا چاہتا ہوں کہ یہ میرے دوست وہی مولوی صاحب ہیں کہ جو اپنے اشاعۃ السنۃ نمبر ۷جلدسات ۷میں امکانی طورپر اس عاجز کا مثیل مسیح اورپھر موعودبھی ہونا تسلیم کرچکے ہیں۔کیونکہ براہین احمدیہ میں جسؔ کا مولوی صاحب نے ریویو لکھا ہے ان دونوں دعووں کاذکر ہے یعنی اس عاجز نے براہین میں صاف اورصریح طورپر لکھا ہے کہ یہ عاجز مثیل مسیح ہے اورنیز موعود بھی ہے۔جس کے آنے کاوعدہ قرآن شریف اورحدیث میں روحانی طورپر دیا گیا ہے۔