لیکن پھر بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اِس بات کو تسلیم نہیں کرتیں اور کہتی ہیں کہ وہ ایک رویا صالحہ تھی اورکسی نے حضرت عائشہ صدیقہ کا نام نعوذ باللہ مُلحد ہ یا ضالہ نہیں رکھا اور نہ اجماع کے برخلاف بات کرنے سے اُنہیں ٹوٹ کر پڑگئے۔اب اے منصفو! اے حق کے طالبو! اے خدائے تعالیٰ سے ڈرنے والے بندو! اس مقام میں ذرہ ٹھہر جاؤ!!!اورآہستگی اور تدبّر سے خوب غورکرو کہ کیا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمان پر جسم کے ساتھ چڑھ جانا اور پھر جسم کے ساتھ اُترنا ایسا عقیدہ نہیں ہے جس پر صدر اوّل کا اجماع تھا اوربعض صحابی جو اس اجماع کے مخالف قائل ہوئے کسی نے اُن کی تکفیر نہیں کی۔نہ اُن کا نا مؔ مُلحد اور ضال اور مأوّل مخطی رکھا۔پھر یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جسمانی معراج کا مسئلہ بالکل مسیح کے جسمانی طورپر آسمان پر چڑھنے اورآسمان سے اُترنے کا ہمشکل ہے اورایک ہمشکل مقدمہ کے بارہ میں بعض صحابہ جلیلہ کا ہماری رائے کے مطابق رائے ظاہرکرنا درحقیقت ایک دوسرے پیرایہ میں ہماری رائے کی تائید ہے یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی معراج کی نسبت انکارکرنا درحقیقت اور درپردہ مسیح کے جسمانی رفع و معراج سے بھی انکار ہے۔سو ہریک ایسے مومن کے لئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور عزّت مسیح کی عظمت اور عزّت سے برتر اوربہتر سمجھتا ہے طریقِ ادب یہی ہے کہ یہ اعتقادرکھے کہ جو مرتبہ قرب اورکمال کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جائز نہیں وہ مسیح کے لئے بھی بوجہ اولیٰ جائز نہیں ہوگاکیونکہ جس حالت میں مسلمانوں کا عام طورپر یہ مذہب ہے کہ مسیح ابن مریم آخری زمانہ میں ایک اُمّتی بنکر آئے گا۔ اورمقتدی ہوگا نہ مقتدا یعنی نماز میں۔پس اس صورت میں صاف ظا ہر ہےؔ کہ اس شخص کا درجہ کہ جو آخر اُمّتی بن کر آئے گا اُس دوسرے شخص کے درجہ سے نہایت ہی کمتر اورفروتر ہونا چاہیئے جس کو اُمتی کا نبی اوررسول اورپیشواٹھہرایا گیا ہے یعنی ہمارے سیّد و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔اور بڑے تعجب کا مقام ہو گا کہ ایک اُمّتی کی وہ تعریفیں کی جائیں