اپنی طرف اُٹھا لیا ہے جیساکہ آیت ارْجِعِىْ اِلٰى رَبِّكِ ۱؂ اسی کی طرف اشارہ کررہی ہے۔خدائے تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے اورحاضر ناظر ہے اور جسم اور جسمانی نہیں اور کوئی جہت نہیں رکھتاپھر کیوں کر کہاجائے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی طر ف اُٹھایا گیاضرور اس کا جسم آسمان میں پہنچ گیا ہو گا۔ یہ بات کس قدر صداقت سے بعید ہے راستباز لوگ روح اور روحانیتؔ کی رو سے خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں نہ یہ کہ اُن کا گوشت او ر پوست اوراُن کی ہڈیاں خدائے تعالیٰ تک پہنچ جاتی ہیں۔خدائے تعالیٰ خود ایک آیت میں فرماتا ہے لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُـوْمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ ۲؂ یعنی خدائے تعالیٰ تک گوشت اور خون قربانیوں کا ہرگز نہیں پہنچتا بلکہ اعمال صالحہ کی رُوح جو تقویٰ اور طہارت ہے وہ تمہاری طرف سے پہنچتی ہے۔ اس تمام تقریر سے ایک سچائی کے طالب کے لئے ایک پوری پوری اطمینان اور تسلّی ملتی ہے کہ جہاں جہاں قرآن شریف اور حدیث میں کسی مجسم چیز کاآسمان سے اتار اجانا لکھا ہے خواہ حضرت مسیح ہیں یا اور چیزیں ،وہ سب الفاظ ظاہر پر ہرگز محمول نہیں ہیں چنانچہ ہمارے علماء بھی ایک مسیح کو باہر نکال کر باقی تمام مقامات میں ظاہر معانی کو باطن کی طرف پھیر لیتے ہیں فقط مسیح کی نسبت کچھ ایسی ضد اورچِڑ ان کی طبیعتوں میں بیٹھ گئی ہے کہ بجُز اس کے راضی نہیں ہوتے کہ اُن کے جسم کو آسمان پر پہنچاویں اورپھر کسی نامعلوم زمانہ میں اُسی جسم کا آسمان سے اُترنا یقین کریں۔ ہمارؔ ے علماء خدائے تعالیٰ ان کے حال پر رحم کرے ہمارے سیّدومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ اورشان کو نہیں دیکھتے کہ سب سے زیادہ خدائے تعالیٰ کا انہیں پر فضل تھا مگر باوجودیکہ آنحضرت کے رفع جسمی کے بارہ میں یعنی اس بارہ میں کہ وہ جسم کے سمیت شب معراج میں آسمان کی طرف اُٹھائے گئے تھے تقریبًا تمام صحابہ کا یہی اعتقاد تھا جیسا کہ مسیح کے اُٹھائے جانے کی نسبت اس زمانہ کے لوگ اعتقادرکھتے ہیں یعنی جسم کے ساتھ اُٹھائے جانااورپھرجسم کے ساتھ اترنا ۱؂ الفجر: ۲۹ ۲؂ الحج:۳۸